Cloud Front
Time and Human

وقت اور انسان

اللہ رب العزت بہت مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے۔۔اس کی رحمتیں کائنات کا احاطہ کئے ہوئے ہیں۔۔ حالانکہ خالق اور مخلوق کا کوئی مقابلہ نہیں۔۔۔ خالق خالق ہے اور مخلوق مخلوق۔۔۔ خالق اپنی ذات ، صفات اور عظمت و جلال میں یکتا اور بے مثال۔۔ جس کی تمام صفات لا محدود ۔۔لیکن پھر بھی اللہ رب العزت اتنا محربان ہے کہ مخلوق کی غلطیوں پر بھی انھیں فنا نہیں کرتا بلکہ ان کو بار بار توبہ کے مواقع دیتا ہے۔۔۔
اللہ رب العزت ستار العیوب ہے جو بندے کو شرمندہ کرنا نا پسند کرتا ہے۔۔ انھیں توبہ کے لئے بار بار مواقع دیتا ہے۔۔۔ کہ وہ لوٹ آئے۔۔ بندہ اگر غلطیاں تسلیم کر لے ۔۔ اور توبہ کا خواستگار ہو تو اسے ایسے پاک کر دیتا ہے جیسے وہ ابھی ابھی پیدا ہوا ہو۔۔
اللہ سبحان و تعالٰی کی مہربانیوں میں سے ایک عظیم مہربانی وقت ہے۔۔ وقت کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ گزر جاتا ہے۔۔ آپ سخت بیمار ہیں ، سخت معاشی اذیت کا شکار ہیں ۔۔لیکن جیسے جیسے وقت گزرے گا تمام مصیبتیں بھی ختم ہوتی جائیں گی ۔۔کل شاید صرف یاد ہو۔۔۔ جبکہ زخم کا نشان بھی مٹ چکا ہو۔۔ وقت ایک مرہم کا کام بھی کرتا ہے۔۔وقت ہمیشہ ایک جیسا نہیں رہتا ۔۔۔ ہر وقت غم نہیں رہتے اور نہ ہی ہر وقت خوشیاں رہتی ہیں۔۔ یہ ہی بات زندگی میں رنگ بھرتی ہے اور آگے چلنے کی ہمت پیدا کرتی ہے۔۔۔
وقت ایک استاد بھی ہے۔۔ ہر گزرا ہوا لمحہ ۔۔۔ ہمیں زندگی کے سبق دے کر جاتا ہے۔۔ عقل مند سیکھتا ہے اور بے وقوف بے خبر رہتا ہے۔
زندگی بھی عجیب ہے، جب اس کی سمجھ آنے لگتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ خاتمے کے قریب پہنچ چکی ہے یا جلد پہنچنے والی ہے۔۔ انسان کی نظر گزرے ادوار پر پڑتی ہے ۔۔ وہ روتا ہے کہ وقت نے اشارے تو بہت دئیے لیکن افسوس وہ اشارے نہ سمجھ سکا اور عالم مدہوشی اور عالم شباب و طاقت میں غلطیوں پر غلطیاں کرتا رہا۔۔ کتنا عقل مند ہے وہ جو وقت کے اشارے سمجھا۔۔ اپنی کوتاہیوں سے سیکھتا رہا ۔۔ اور زندگی کو رب کی منشا کے مطابق گزارنے میں لگا رہا۔۔۔
حافظ داؤد میرا ایک اچھا دوست تھا۔ وہ میرا ہی نہیں ایف جی کالج لاہور کینٹ کے ہر سٹوڈنٹ کا ہر دل عزیز دوست تھا۔۔ مدد کرنے والا ۔۔ صاف گو اور علم وعمل میں ہم سب سٹوڈنٹس میں سب سے پختہ۔۔ اس کے والد فوج کی ایجوکیشن برانچ میں کرنل تھے۔۔۔ ایف جی کالج لا ہور میں ، میں پری میڈیکل میں ایف ایس سی کر رہا تھا اور حافظ صاحب پری انجینئرینگ کر رہے تھے۔۔ حافظ داؤد کو اللہ نے کمال صفات سے نوازا ہوا تھا۔۔ بہتریں قاری قرآن، بہترین سپوڑٹس میں۔۔ بہتریں مقرر، اپنی کلاس کا لائیق ترین طالب علم۔۔۔
یہ انیس سو پچانوے کی بات ہے ۔۔ہم نئے نئے سیکنڈ ائیر میں پرموٹ ہوئے تھے۔۔ میں آرمی میں جانا چاہتا تھا ۔۔اس لئے فٹنس کے لئے روزانہ شام کو پانچ ۔۔۔چھ کلومیٹر بھاگتا۔۔۔ یہ چار ستمبر کی شام تھی ۔۔۔میں معمول کے مطابق رننگ کر رہا تھا جب ملاقات حافظ صاحب سے ہو گئی۔۔ حافظ صاحب عصر کی نماز کے لئے مسجد جا رہے تھے۔۔
حافظ صاحب نے پوچھا کہان جا رہے ہو۔۔ میں نے کہا یار رننگ کا وقت ہے ۔۔ دوڑ لگا رہا ہوں۔۔
بولا ۔۔چل یار نماز کے لئے چلیں۔۔پانچ منٹ کی ہی تو بات ہے۔۔
میں نے جواب دیا ۔۔ ابھی رننگ پوری کر کے نماز پڑھوں گا۔۔ تو جا کہیں تیری نماز نہ کھڑی ہو جائے۔۔
حافظ صاحب مسکرائے اور بولے
ہان یار میری نماز تو کھڑی ہو ہی جائے گا۔۔ چل تیری مرضی۔۔ میں تو نماز کے لئے جا رہا ہوں۔۔۔
دوسرے دن کالج گئے تو فزیکس کے سر پرویز نے کہا کہ ان کے بہانجے کو خون کی ضرورت ہے۔۔ میں چونکہ فاطمید والوں کو خون دیتا رہتا تھا اس لئے میں نے کہا سر میں جا کر ارینج کر دیتا ہوں۔۔
سر بولے۔۔۔ داود بھی گیا ہے۔۔ تم بھی اگر کر دو تو بہت آسانی ہو جائے گی۔۔
میں نے موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیولوجی ۔۔۔ کی طرف چل پڑا جہاں بچہ ایڈمٹ تھا۔۔
وہاں مریض کے والد نے بتایا کہ حافظ داود خون دے کر جا چکا ہے۔۔ اگر ضرورت پڑی تو وہ مجھے مطلع کر دیں گے۔۔ فی الحال ضرورت نہیں۔۔۔
واپس آ رہا تھا کہ شیر پاو پل اترتے ہی دیکھا۔۔۔ گوگو ہوٹل کے سامنے سڑک خون و خون ہوئی وی ہے۔۔۔۔ پتہ چلا کوئی ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔ خیر کالج پہنچے ۔۔اور کلاسز کے بعد گھر کو ہو لئے۔۔۔
چھ ستمبر کی چھٹی تھی۔۔جو گھر کے کاموں میں گزری
سات کو صبح موٹر سائیکل کی ٹیوب تبدیل کرانی تھی۔۔ جلدی تھی ، موٹر سائیکل مکینک نے کہا دکان سے لے آئیں ۔۔ نوجوانی کا دور تھا ۔ سٹیمینا بھی تھا۔ میں ٹیوب لینے کے لئے بھاگا۔۔ سامنے دیکھا ایک ویگن تیز رفتار سے آ رہی ہے۔۔۔ کچھ انچون کے حساب سے بچا۔۔۔
خیر ٹیوب لے کر آیا ، اسے لگوایا ۔۔ اور کالج کے لئے بھاگا۔۔۔
کالج کے گیٹ سے دور ہی لڑکوں کو اداس اداس حاجی ٹرمنل کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔
اندر داخل ہوا تو سب لڑکے لڑکیاں اداس اداس ۔۔افسردہ افسردہ بیٹھے تھے۔۔
عمر ارشد نظر آیا۔۔ معملہ پوچھا تو رو پڑا ۔۔بولا یار پرسوں جو شیر پاو کے قریب خون دیکھا تھا۔۔ وہ اپنے دوستوں کا ہی تھا۔۔۔ حافظ داود اور رانا شہیر ۔۔۔۔سر پرویز کے بھانجے کو خون دے کر آ رہے تھے جب ایک گاڑی نے انہیں سائیڈ ماری۔۔۔ حافظ تو موقع پر فوت ہو گیا ۔۔ جبکہ شہیر سی ایم ایچ میں کومے میں پڑا ہے۔۔ یہ میں تیرا انتظار ہی کر رہا تھا۔۔چل حاجی ٹرمینل کے سامنے شہیدون کے قبرستان چلیں ۔۔وہان حافظ کو دفنایا گیا ہے۔۔۔ فاتحہ ہی پڑھ آئیں۔۔۔
اگلے ہفتے رزلٹ نکلا۔۔
مرحوم دادو نے توقعات کے مطابق کالج میں مجموعی طور پر سب سے زیادہ نمبر لئے ۔ جب تک زندہ رہا تو ہر دل عزیز رہا اور مرنے کے بعد بھی ثابت کر گیا کہ وہ بہترین تھا۔۔۔
حافظ کی نماز کھڑی ہو چکی تھی۔ میں اس میں بھی شامل نہ ہو سکا۔ شاید اللہ کا وہ نیک بندہ وہ کچھ جانتا تھا جو میں ویگن سے کچھ انچون سے بچنے کے باوجود بھی کئی سال نہ جان سکا۔۔
حافظ داود کی وفات کا زخم بھی آہستہ آہستہ مٹ گیا۔۔ زندگی معمول پرآ گئی۔۔ زندگی میں کئی اتار چڑھاو آئے۔۔ ذلتیں آئیں پھر اللہ نے عزتوں سے بھی سرفراز کیا۔۔ پہلے والد سے پاکٹ منی لیتا تھا پھر خود کمانا شروع کر دیا۔۔
یہ دو ہزار آٹھ کی بات ہے۔۔ان دنوں میں چینل ۵ میں ریسرچر تھا۔۔ آٹھ بجے دفتر کے کاموں سے فارغ ہو کر نکلا۔۔ روزنامہ اوصاف کے دفتر کے سامنے سے رکشہ لیا۔۔ رکشہ ڈرائیور کا حلیہ عجیب سہ تھا۔۔ عجیب سی داڑھی، پھٹے اور گندے کپڑے۔۔ خیال ہوا کوئی اٹھائی گیرا /پاوڈری آدمی ہے ۔۔۔
سفر کے آغاز سے پندو نصیحت کا سلسلہ شروع کر دیا۔۔ رویہ ایسا جیسے میں عقل مند اور صاحب مقام اور وہ غریب جیسے ایک گھٹیا انسان جسے نصیحت کر کے اس پر احسان کر رہا ہوں۔۔
کوئی آدھ کھنٹے میں لیکچر دیتا رہا۔۔ اور وہ غریب سنتا رہا۔۔ اتنے میں گھر قریب آ گیا۔۔۔ کالونی کی مسجد قریب آئی تو وہ بندہ پہلی بار گویا ہوا۔۔۔ صاحب یہ اللہ کا گھر ہے۔۔ کچھ سال پہلے آپ یہاں اذاں دیتے تھے ۔۔ پھر اللہ کی رحمت ہوئی۔۔۔ برا وقت گزر گیا اور آج آپ کا اچھا وقت شروع ہو چکا ہے۔۔لیکن آپ نے کیا کیا۔۔۔؟
آپ نے آذان کیا دینی تھی۔۔مسجد کا راستہ تک بھلا دیا۔۔
آپ کو تعلق نہیں توڑنا چاہئے اور مسجد کو آباد کرنا چاہئے تاکہ آپ مزید آباد اور شاد ہوں۔۔
سخت گرمی کے دن تھے۔۔رکشہ ڈرائیور کی بات سن کر مجھے کپکپی سی آ گئ۔ یہ میرا نام کیسے جانتا ہے؟۔۔۔ اسے کیسے پتہ میں یہان آذان دیتا تھا۔۔۔ یہ کیسے جانتا ہے کہ میں ابھی ابھی کرائیسز سے نکلا ہوں۔۔
میں نے پوچھا ۔۔حضرت آپ کوں ہیں؟
وہ بولا سر آپ اسے چھوڑیں میں ایک ادنا سا بندہ ہوں۔ یہ کہہ کر اس نے پیسے لئے اور چل پڑا۔۔۔
اور میں حیرت سے کئی منٹ گھر کے باہرکھڑا اسے جاتے تکتا رہا۔۔
ہم انسان بھی کتنے عجیب ہیں۔۔ جتنے امیر اور خوشحال ہوتے جاتے ہیں ،اتنے ہی غافل ہوتے جاتے ہیں۔۔ ہمارے لئے عزت کا میعار انسان کا باطن نہیں بلکہ اس کا ظاہر بن جاتا ہے۔۔ ظاہر جتنا نفیس ، اتنا ہی فرد قابل عزت و احترام ۔۔چاہے وہ باطن کا کتنا ہی سیاہ کار ہو۔۔ جبکہ باطن کا صاف ،ظاہر کی غربت کی وجہ سے بے عزتہ اور خطاکار۔۔ کتنی حیرت کی بات ہے ۔۔ ہم اپنے سے ظاہراٍ غریبوں کے لئے سخت دل رکھتے ہیں لیکن اپنے سے امیروں کے ساتھ نرم اور پیٹھ پیچھے سوشلسٹ بن جاتے ہیں۔۔
کتنی حیرت کی بات ہے کہ خود پرستی میں اتنے گرفتار ہیں کہ اپنے سے زیادہ کوئی نظر ہی نہیں آتا۔۔ ہماری نیکی بھی اللہ کی رضا کے لئے نہیں بلکہ نفس کی مدح سرائی کے لئے ہوتی ہے۔۔ کسی کو ایک پیسہ بھی دیتے ہیں تو ہزار لوگوں کو بتاتے ہیں۔۔ اور اگر کسی سے ایک پیسہ بھی لیا ہو تو اس بات کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔
ہر سال اپنے دوستوں ، عزیزوں اور قرابت داروں کے جنازے اٹھاتے ہیں۔۔۔ مگر خود موت کو ایسے بھولے رہتےہیں جیسے ۔۔موت سے استثنا ء حاصل ہو۔۔
انسان جب موت کو بھول جاتا ہے تو خدا بن جاتا ہے۔ کیونکہ موت کی یاد ہی اسے سیدھی راہ پر چلنے کی ترغیب دیتی ہے ۔۔ موت کو بھولا بیٹھا انسان ۔۔۔ہر کام میں خود ساختہ اخلاقیات پر عمل کرتا ہے۔۔ اس کے اعمال۔۔ اس کے لئے خوبصورت ہو جاتے ہیں ۔۔ اور وہ ایک ایسے نشے میں گرفتار فرد جیسا ہو جاتا ہے جسے نشہ حقیقت سے دور کر دے۔۔
وقت استاد تو واقعی ہے۔۔لیکن ان کا جن پر اللہ کی رحمت ہو، جن کے ضمیر زندہ ہوں۔۔جن کے دماغ سوچنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔
افسوس اس انسان پر جو وقت سے کچھ نہ سیکھ سکے۔۔ اور اس شخص پر جسے جو یہ بات نہ سمجھ سکے کہ یہ زندگی تیں گھنٹون کی فلم کی طرح ہے جس نے ختم ضرور ہونا ہے۔۔ دنیا صرف انھیں ہی یاد رکھتی ہیں جو اس فلم میں اچھا کردار نبھائیں۔۔
افسوس ہم اپنی انا کے علاوہ جن لوگوں۔۔۔ جن رشتوں کی خاطر انصاف و عدل کا راستہ چھوڑتے ہیں ۔۔ان کی محبتیں بھی قبر تک پہنچتے ہی ختم ہو جاتی ہیں۔۔ قبر ہی زندگی کی سٹیج کا اختتامیہ ہے۔۔ جہاں پہنچ کر دولت، جوانی ، بیٹے ، محل اور بینک بیلنس ساتھ چھوڑ جاتے ہیں۔۔
یہاں اور یہاں سے آگے ۔۔ صرف وہی چیزیں ساتھ دیتی ہیں۔۔جنھیں انسان ساری زندگی اہمیت نہیں دیتا۔۔ کاش کے انسان سمجھ سکے کہ دنیا کی سٹیج پر کب سے ڈرامہ چل رہا ہے۔۔ لا تعداد ایکٹر آئے اور گئے۔۔ ہم بھی رول ادا کر کے چلے جائیں گے۔۔ یاد کرنے والے ہمیں معاشرے کو دی ہوئی خیر، محبت اور نیک اعمال کی بنیاد پر ہی یاد کریں گے۔۔
اللہ ہمیں با شعور بنائے ۔۔ تاکہ ہم زندگیوں میں عدل پیدا کریں۔۔خیر بانٹیں اور خیر پھیلائیں ۔۔
بلھے شاہ اسان مرنا نا ہیں
گور پیا کوئی ہور




محمد بلال افتخار خان پروگرام کھرا سچ سے وابستہ ہیں بین الاقوامی معاملات میں کافی گرفت رکھتے ہیں قومی اور بین الاقوامی اخبارات میں بھی لکھتے ہیں اورسٹریٹیجک سٹڈیز میں ایم اے کی ڈگری رکھتے ہیں