Cloud Front
Ali Raza Shaaf

بی بی کا بیٹا زرداری کا جانشین!‌ ….علی رضا شاف

سابق صدر آصف زرداری پاکستانی سیاست کی یونیورسٹی ہیں اور باقی تمام رہنما ان کے شاگرد ہیں، اور استاد شاگرد کی اہلیت سے واقف ہوتا ہےکہ وہ کس حد تک جاسکتا ہے.

سابق صدر وطن واپس کیوں لوٹے ہیں ان کی واپسی کس مقصد کے تحت ہوئی ہے 27 دسمبر تک بہت سے ابہام پائے جاتے تھے لیکن گڑھی خدا بخش میں انہوں نے واضح کر دیا کہ ان کا اصل مقصد آئندہ انتخابات کی تیاری اور بلاول کو آداب سیاست سکھانا ہے آصف زرداری بڑی محدوظ گیم کھیل رہے ہیں ان کے پاس ایک بہت قیمتی پتہ بلاول ہے جسے وہ بڑے اہم وقت پر چلتے ہیں بلاول کا استعمال چار مطالبات کی شکل میں آیا جس پر بلاول بھٹو نے پورے پاکستان میں جلسوں میں ذکر کیا اور عندیہ دیا کہ اگر مطالبات نہ پورے ہوئے تو دمادم مست قلندر ہوگا، بظاہر مطالبات بلاول کے نظر آتے رہے لیکن بلاول کی آواز میں سکرپٹ آصف علی زرداری کا تھا جب ماحول گرم ہوگیا، گراؤنڈ بن گئی تو آصف زرداری 27 کو جلسے میں ان چار مطالبات کا بالکل ذکر نہیں کرتے، وہ ایک الگ سیاسی خطاب کرتے ہیں دوسری جانب بلاول مطالبات کے لئے لانگ مارچ کی کال دیتے ہیں ایک جلسہ دو الگ الگ خطابات.بلاول بھٹو کا سیاسی چہرہ ابھی غیر متنازعہ ہے چونکہ وہ محترمہ بے نظیر بھٹو کے سیاسی جانشین ہیں لیکن حالیہ دنوں میں بی بی کے کم اور آصف زرداری کے زیادہ جانیشن ثابت ہورہے ہیں پارٹی میں‌ جو ورکر اور پرانے جیالے آصف زرداری کی وجہ سے نالاں ہیں ان کو بلاول کے ذریعے دوبارہ متحرک کیا جائے گا کیونکہ زرداری اس بات سے واقف ہیں کہ یہ جیالے ہی پی پی پی کی اصل جان ہیں جن کے ذریعے وہ کامیاب ہوسکتے ہیں پنجاب میں پارٹی کی کمان قمر زمان کائرہ کے سپرد کرنا بھی اسی کا پیش خیمہ ہے

سیاسی حریف پریشانی میں مبتلا ہیں کہ خدا کوئی سمجھ عطا کر دے یہ کونسی سیاسی چال ہے جس کی سمجھ ہی نہیں‌آرہی ایک طرف باپ بیٹا اسمبلی میں آرہے ہیں دوسری جانب لانگ مارچ کی کال بھی دیتے ہیں، باپ اور بیٹے کی زبان مختلف ہے باپ مصلحت اور مفاہمت کی سیاست اور بیٹا مار دھاڑ کی سیاست پر عمل پیرا ہے، حقیقت میں آصف زرداری میاں‌نواز شریف کو الجھا کر مفاہمت اور آئندہ انتخابات کی تیاری چاہتے ہیں اور عمران خان جو سابق صدر کے خلاف بھی جارحانہ انداز اپناتے تھے وہ بھی خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں اس دوران آصف زرداری ایک تیر سے کئی شکار کر جائیں گے

دوسری جانب اسمبلی میں جس نشست سے بلاول اپنی پہلی سیاسی جدوجہد کا باقاعدہ ایوان سے آغاز کریں گے وہ حلقہ این اے 204 ہے وہی حلقہ جس سے ذوالفقارعلی بھٹو، بیگم نصرت بھٹو اور بے نظیر نے آغاز کیا تھا بلاول کے ساتھ زرداری اس لئے آرہے ہیں کہ وہ بلاول کو انگلی پکڑ کر سیاست سکھانے کے خواہاں ہیں آصف زرداری سابق صدر فارق لغاری کا ریکارڈ برابر کرنے جارہے ہیں کیونکہ ملکی تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ صدارت کے عہدے کے بعد کوئی سابق صدر ایم این اے بن کر ایوان میں‌ آیا ہو، اس سے پہلے ڈپٹی وزیراعظم کا عہدہ پیدا کرنا بھی زرداری کے ریکارڈ میں شامل ہے اسی طرح سیاسی درجہ حرارت اور موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے آئندہ انتخابات ان کی ترجیحات میں شامل ہیں اور وہ ایسے کھلاڑی ہیں وہ عمران خان کی جگہ لیکر اقتدار پر براجمان ہونے پر یقین رکھتے ہیں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ آصف زرداری اور میاں نواز شریف کسی بھی وقت میثاق جمہوریت کے تحت حکومت قائم کر سکتے ہیں اس لئے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں ایک ہی سیاسی سکے کے دو رخ ہیں دو باقی جماعتوں کا رخ کسی بھی وقت پلٹ سکتے ہیں

تحریر : علی رضا شاف