Cloud Front
Basti Ali

باسط علی پر سابق انٹرنیشنل کرکٹر کو تھپڑ مارنے کا الزام

باسط علی نے الزام کی تردید کرتے ہوئے محمود حامد سے ثبوت پیش کرنے کا مطالبہ کردیا
پی سی بی باسط علی کے خلاف سخت ایکشن لے گا ، شہریار خان نے سابق کھلاڑی محمود حامد کو یقین دہانی کرا دی
پی سی بی باسط علی کے خلاف سخت ایکشن لے، ناقص کارکردگی پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئی، محمود حامد

ؐکراچی: سابق انٹرنیشنل کرکٹر محمود حامد نے ویمن کرکٹ ٹیم کے کوچ باسط علی پر تھپڑ مارنے کا الزام عائد کیا ہے لیکن باسط علی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر محمود حامد کے پاس ثبوت ہیں تو وہ پیش کریں، دوسری جانب پی سی بی چیئرمین شہریار خان نے سابق کھلاڑی محمود حامد کو وویمن ٹیم کے کوچ باسط علی کے خلاف سخت ایکشن کی یقین دہانی کرا دی۔محمود حامد نے مقامی ٹی وی چینل کے پروگرام میں قومی جونیئر ٹیم اور ویمنز ٹیم کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس پر باسط علی نے برہمی کا اظہار کیا تھا۔باسط علی نے کہا تھا کہ ایک ایک میچ کھیلنے والے کھلاڑی منہ اٹھا کر تنقید کرتے ہیں اور وہ خود پر تنقید کرنے والوں سے برا سلوک کریں گے۔

واقعہ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں ہونے والے قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کے دوران پیش آیا۔محمود حامد نے کہا کہ میں عتیق الزمان کے ساتھ سوئی گیس کی دو ٹیموں کے درمیان ہونے والا میچ دیکھ رہا تھا کہ باسط علی ڈریسنگ روم سے اترے اور مجھے تھپڑ مار دیا۔ادھر باسط علی نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے محمود حامد پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور اگر ان کے پاس کوئی ثبوت ہے تو پیش کریں۔ دوسری جانب بین الاقوامی کھلاڑی محمود احمد نے باسط علی کے نازیبا سلوک کے بعد کراچی میں پی سی بی چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کی اور انہیں واقعے سے متعلق آگاہ کیا۔ملاقات کے دوران شہریار خان نے محمود حامد سے کہا کہ باسط علی کو ہاتھ نہیں اٹھانا چاہئیے تھا ، یہ انتہائی افسوسناک اقدام ہے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ باسط علی کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا اور معاملے کی پوری طرح تحقیقات کی جائیں گی تاکہ پتہ چل سکے کہ واقعہ کیوں پیش آیا۔محمود حامد نے مطالبہ کیا کہ پی سی بی باسط علی کے خلاف سخت ایکشن لے۔ ناقص کارکردگی پر تنقید برداشت کرنے کا حوصلہ ہونا چاہئیے۔ دوسری جانب باسط علی نے محمود حامد کو تھپڑ مارنے کی خبر کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تھپڑ نہیں مارا مگر معاملے کو خوامخواہ بڑھایا جا رہا ہے۔