Cloud Front
Trump and Putin

امریکی انتخابات میں روسی مداخلت: تفصیلی رپورٹ جاری

ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی اور ایف بی آئی نے 13 صفحات پر مبنی اس مشترکہ رپورٹ میں پہلی بار کسی ملک کو ہیکنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے

واشنگٹن : امریکہ نے روس کی جانب سے صدارتی انتخابات کے دوران ہیکنگ کے ذریعے مداخلت کے الزامات کے بارے میں اب تک کی سب سے تفصیلی رپورٹ جاری کی ہے۔ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سکیورٹی اور ایف بی آئی نے 13 صفحات پر مبنی اس مشترکہ رپورٹ میں پہلی بار کسی ملک کو ہیکنگ کے لیے موردِ الزام ٹھہرایا ہے۔ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ امریکہ نے سرکاری طور پر اور باضابطہ طریقے سے ڈیموکریٹک نیشنل کمیٹی کے اکاؤنٹس کی ہیکنگ کا تعلق روسی سول اور فوجی انٹیلی جنس اداروں ایف ایس بی اور جی آر یو سے جوڑا ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس ادارے امریکی حکومت اور امریکی شہریوں کے خلاف سائبر حملوں میں ملوث رہے ہیں۔ بعض دفعہ تو (روسی انٹیلی جنس اداروں کے) اہلکار کسی تھرڈ پارٹی کا روپ دھار کر، مثال کے طور پر ’جعلی آن لائن شخصیات کے پیچھے چھپ کر حملے کے مقام کو چھپا دیا کرتے تھے۔’

اس سال موسمِ گرما میں ڈیموکریٹ پارٹی کی ای میلز چوری کر کے Guccifer 2.0 کے نام سے آن لائن شائع کر دی گئی تھیں۔ امریکی حکام کا خیال ہے کہ اس اکاؤنٹ کا تعلق روس سے ہے۔ اس دوران ایسی دستاویزات افشا ہوئیں جن میں ڈی این سی کی چیئرپرسن ڈیبی ویسرمین شلز کی جانب سے ہلیری کلنٹن کی جانب جھکاؤ ظاہر ہوتا تھا۔ شلز کو اس کے بعد مستعفی ہونا پڑا تھا۔جمعرات کو یہ رپورٹ جاری ہونے کے بعد امریکی صدر براک اوباما نے جی آر یو اور ایف ایس بی اور جی آر یو کی قیادت اور کمپنیوں پر پابندیاں عائد کر دیں۔یہ پابندیاں 2015 میں نازک بنیادی ڈھانچے کے خلاف سائبر حملوں کے بارے میں جاری ہونے والے انتظامی حکم نامے کے ذریعے عائد کی گئی ہیں۔ تاہم انتخابی نظام نازک بنیادی ڈھانچے کے ضمن میں نہیں آتا،

اس لیے اوباما نے منگل کو اس حکم نامے میں ترمیم کرتے ہوئے اس ہیکنگ کو ‘انتخابی عمل یا اداروں میں مداخلت’ قرار دے کر یہ پابندیاں لگائی ہیں۔نومنتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد صدارت پر براحمان ہونے سے چند ہفتے قبل ہی روس کے خلاف یہ جوابی کارروائی خاصی معنی خیز ہے اور یہ کئی ماہ کے سیاسی تعطل کے بعد پیش کی گئی ہیں کہ امریکی انتخابات میں روسی مداخلت سے کس طرح نمٹا جائے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو جتوانا تھا۔رپورٹ میں ذکر کیا گیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس اداروں نے ‘سپیئرفشنگ’ کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ہیکنگ کی جس کے تحت ایسی ای میلز بھیجی گئیں جن میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ اپنے نام اور پاس ورڈ لکھیں۔ کم از کم ایک شخص نے ایسی ایک ای میل کے ساتھ منسلک اٹیچمنٹ کھولی۔رپورٹ کے مطابق روسی انٹیلی جنس ادارے اب بھی سپیئر فشنگ میں سرگرم ہیں، اور ایسا ہی ایک حملہ امریکی انتخابات کے بعد بھی کیا گیا تھا۔ایف ایس بی نے 2015 کے موسمِ گرما میں ڈی این سی کو ہیک کر لیا تھا، پھر جی آر یو نے 2016 کے موسمِ بہار میں ایک بار پھر اسے ہیک کیا۔ دونوں بار سپیئرفشنگ کے ذریعے ایسے اکاؤنٹس سے ای میلز بھیجی گئی تھیں جو بظاہر جائز یا سرکاری اداروں سے آئی تھیں۔روسی حکام نے امریکی سیاسی ویب سائٹس یا ای میلز کی ہیکنگ کے الزامات کی تردید کی ہے۔