Cloud Front
Justice Saqib Nisar

جسٹس ثاقب نثار نے 25 ویں چیف جسٹس سپریم کورٹ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا

حلف برداری کی تقریب ایوان صدر میں ہوئی،صدر ممنون حسین نے ان سے حلف لیا
وزیر اعظم ،چیئرمین سینٹ،سپیکر قومی اسمبلی ،وفاقی وزراء ،اراکین پارلیمنٹ ،تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور سپریم کورٹ کے ججز کی تقریب میں شرکت

چیف جسٹس ثاقب نثار 17 جنوری 2019 تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے
جسٹس ثاقبت نثار 18 جنوری 1954 کو لاہور میں پیدا ہوئے ، 1980 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا ، 1982 میں ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ بنے،1998 میں ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی ملی، 2010 میں سپریم کورٹ کے جج مقرر ہوئے ،رپورٹ

اسلام آباد : سپریم کورٹ کے جسٹس ثاقب نثار نے پاکستان کے 25 ویں چیف جسٹس کے عہدے کا حلف اٹھا لیا۔صدر ممنون حسین نے جسٹس میاں ثاقب نثار سے حلف لیا۔ تقریب کا آغاز ڈاکٹر اکرام الحق نے تلاوت سے کیا،جس کے بعد میاں ثاقب نثار نے عہدے سے وفاداری کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف، چیرمین سینیٹ، اسپیکر قومی اسمبلی، وفاقی وزراء4 و اراکین پارلیمنٹ سمیت مسلح افواج کے سربراہان اور سپریم کورٹ کے ججز نے شرکت کی۔واضح رہے کہ جسٹس انور ظہیر جمالی گزشتہ روز مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے جبکہ جسٹس ثاقب نثار جسٹس میاں ثاقب نثار 17 جنوری 2019 تک اپنی ذمہ داریاں نبھائیں گے۔یاد رہے کہ رواں ماہ 7 دسمبر کو صدر مملکت ممنون حسین نے جسٹس ثاقب نثار کو سپریم کورٹ کا چیف جسٹس مقرر کرنے کی منظوری دی تھی۔

18 جنوری 1954 کو لاہور میں پیدا ہونے والے جسٹس ثاقب نثار نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون کے ڈگری حاصل کی۔جسٹس ثاقب نثار نے 1980 میں وکالت کا پیشہ اختیار کیا اور 1982 میں وہ ہائی کورٹ کے ایڈووکیٹ بن گئے جبکہ 1994 میں انہیں سپریم کورٹ کا ایڈووکیٹ بننے کا اعزاز حاصل ہوا۔1998 میں جسٹس ثابت نثار کو ہائی کورٹ کے جج کے عہدے پر ترقی دی گئی جبکہ 2010 میں انہیں سپریم کورٹ کا جج مقرر کردیا گیا۔واضح رہے کہ آئین کے مطابق سپریم کورٹ کے چیف جسٹس 65 سال کی عمر کو پہنچنے پر ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں جبکہ ان کے بعد نیا چیف جسٹس سپریم کورٹ کا سینئر ترین بنتا ہے۔خیال رہے کہ نئے چیف جسٹس کی تقرری ایسے وقت پر ہوئی جب قومی اہمیت کا حامل مالی سکینڈل پانامہ لیکس کا کیس سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے،آئینی ماہرین کے مطابق پانامہ کا کیس نئے چیف جسٹس کے لئے ایک امتحان ہے ،کیس کا فیصلہ جس فریق کے حق میں ہوتا ہے لیکن یہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ہوگا۔