Cloud Front
Sindh Taas

بھارت دیکھ رہا ہے کس طرح سندھ طاس معاہدہ کو نقصان پہنچایا جائے ،آبی و معاشی ماہرین

لگتا نہیں مودی معاہدہ ختم کریں پانی ہماری زندگی ہے ، ، اگر کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو پھر تو سیدھی جنگ ہے، سند طا س جماعت علی شاہ ،سلمان شاہ،ڈاکٹر قیس اسلم،فاروق باجوہ

لاہور : آبی و معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کا پانی بند کیا جاتا ہے تو یہ بھارت کی جانب سے کھلم کھلا اعلان جنگ تصور کیا جائے گا۔اگر ورلڈ بینک نیوٹرل ایکسپرٹ کی جانب جائے تو پاکستان کو چلے جانا چاہئے تا کہ سندھ طاس معاہدہ بچ جائے۔سندھ طاس کے ذریعے پاکستان نے بلا وجہ دریا بھارت کو دئیے یہ معاہدہ ہی غلط تھا۔سندھ طاس معاہدہ اگر ٹوٹتا بھی ہے تو اس کا نقصان بھارت کو ہی ہو گا کیونکہ نئے معاہدے کے مطابق پانی کو بانٹا جائے گا، دریا نہیں بانٹے جائیں گے۔ان خیالات کا اظہار آبی اور معاشی ماہرین نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ سابق کمشنر سند طا س جماعت علی شاہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان کے مفاد میں ہے اس کو چلتے رہنا چاہئے۔ بھارت پاکستان کا دشمن ہے وہ دیکھ رہا ہے کہ کس طرح سندھ طاس معاہدہ کو نقصان پہنچایا جائے۔

سندھ طاس معاہدہ دس سال بحث کے بعد عمل میں آ یا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مودی پاکستان کو تنگ کرنے کیلئے ایسا کہہ رہا ہے۔ پاکستان اس مسئلہ کو ورلڈ بینک کی جانب لے کر گیا ہے جو کہ بھارت کو بات پسند نہیں آئی۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر کوئی اس سلسلہ میں کورٹ بنائی گئی تو وہ تعاون نہیں کریں گے۔معروف معاشی ماہر اور سابق نگران وزیر خزانہ سلمان شاہ نے کہا کہ پانی ہماری زندگی ہے ، کوئی بھی اس سے چھیڑ چھاڑ نہیں کر سکتا، اگر کوئی چھیڑ چھاڑ کی تو پھر تو سیدھی جنگ ہے۔ انہوں نے کہا لیکن میرا نہیں خیال کہ مودی کوئی ایسا کام کریں گے صرف ہمارا کیس اس لئے کمزور ہے کہ ہم نے پانی ٹھیک سے استعمال نہیں کیا۔

معروف معاشی ماہر ڈاکٹر قیس اسلم نے کہا کہ اگر سند طاس معاہدہ توڑا جاتا ہے تو اس کا زیادہ فائدہ ہمیں ہے کیونکہ معاہدہ کے مطابق 3 دریا بھارت نے اور 3 دریا ہم نے رکھے ہوئے ہیں اگر معاہدہ توڑا جاتا ہے تو پھر سب دریاؤں کا پانی مساوی تقسیم ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ہمارا پانی کبھی بند نہیں کر سکتا کیونکہ ورلڈ بینک اس معاملہ میں گارنٹر ہیں۔واٹر ایکسپرٹ فاروق باجوہ نے کہا کہ سندھ طاس معاہدہ 1960 میں کیا گیا تھا اس میں شرط رکھی گئی تھی کہ اگر کوئی ترمیم کرنی ہے تو دونوں پارٹیوں کی رضامندی سے ہو گی اور اگر کوئی ایک پارٹی معاہدہ توڑنا چاہتی ہے تو وہ توڑ بھی سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کے خلاف ہی جاتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ واٹر اینڈ سپلائی خواجہ آ صف کے ماتحت ہے ان کا کیا رول ہے جب تک ہم خود نہیں ٹھیک ہوں گے بھارت ہمیں آنکھیں دکھاتا ہی رہے گا۔