Cloud Front
stop-killing-journalists

2016 ،صحافیوں کے لئے بدترین سال ثابت !

31 ممالک میں204 صحافیوں کو موت کی بھینٹ چڑھایا گیا،70 زخمی ہوئے، رپورٹ
مشرق وسطی میں 38 ،پاکستان ،عراق ،میکسیکو،فرانس ،لیبیا اور فلپائن میں 10,10 صحافیوں کو قتل کیا گیاجبکہ بھارت ،برازیل ،جنوبی سوڈان اور یمن میں72 صحافی ہلاک ہوئے

مظفرآباد : صحافیوں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم میڈیا واچ جموں و کشمیر انٹرنیشنل نے دنیا بھر کے 31ممالکوں میں صحافیوں کے قتل اغواء ، زخمی کی رپورٹ شا ئع کردی رپورٹ کے مطابق 2015ء میں 143صحافی جاں بحق جبکہ65زخمی ہوئے تھے جبکہ 2016صحافیوں کے لئے بدترین سال ثابت ہوا جہاں 31ممالکوں میں 204صحافی قتل جبکہ 70زخمی ہوئے سال کے آخری مہینے میں جہاز کے حادثہ میں 30صحافی ہلاک ہوئے جو دنیا کے31ممالکوں میں سب سے زیادہ تعداد سامنے آئی ہے میڈیا واچ جموں و کشمیر کی رپورٹ کے مطابق 2015ء میں 31ممالکوں میں 143صحافی جاں بحق ہوئے جبکہ 65زخمی 21اغواء ،9پر جھوٹے مقدمات قائم کئے گئے تھے

جبکہ 38صحافیوں کا تعلق جو مشرق وسطیٰ میں 38صحافی ہلاک ہوئے جبکہ 5زخمی ، عرا ق میں 10،شام میں 13، میکسیکو میں 10،فرانس لیبیاء اور فلپائن میں 10، برازیل ہندوستان ، جنوبی سوڈان اور یمن میں 72صحافیوں کو ہلاک کردیا گیا جبکہ پاکستان میں 10،صومالیہ میں 6، یوکرائن اینڈو وارس 5،5، کولمبیا ء 5، افغانستان ، امریکہ میں 5،5صحافی ہلاک ہوئے جبکہ 40زخمی صحافیوں میں 4آزادکشمیر 36کا اسلام آباد سے تعلق بتایا جاتا ہے جو زخمی ہوئے جبکہ حکومت کی جانب سے ٹی وی چینلز او ر اخبارات پر پابندی لگائی گئی رپورٹ کے مطابق 2016ء صحافیوں کے لئے خطرناک ترین سال ثابت ہواجہاں دنیا بھر کے 31ممالک میں 204صحافی ہلاک جبکہ 70زخمی ، 30اغواء ،65پر جھوٹے مقدمات میں پھنسایا گیا کراچی میں ٹی وی چینلز پر ایم کیو ایم کے حملہ میں لاکھوں روپے کا نقصان کے علاوہ اخبارات پر بھی پابندی لگائی گئی جبکہ برازیل میں جہاز کریش میں 21صحافی جبکہ ، شام میں 9صحافی جہاز حادثہ میں ہلاک ہوئے ،

مشرقی وسطیٰ میں50صحافی قتل 20زخمی ، عراق میں 15،شام میں 22،فرانس ، لیبیاء ، فلپائن میں 16،صومالیا ، اینڈر وائس میں 11صحافی قتل ہوئے جبکہ لاٹھی چارج ، آنسو گیس سمیت پاکستان اور عراق میں 50صحافی زخمی ہوئے ا س طرح دنیا میں صحافیوں کو حکومتی تحافظ ملنے اور قتل کی شرح میں کمی ہونے کے باعث مزید اضافہ ہورہا ہے جس کی بڑی وجہ میڈیا واچ رپورٹ کے مطابق یورپ ، بحیرہ عرب ،جنوبی ایشیاء میں مختلف صحافتی تنظیموں کی تقسیم اور گروپ بندی کا نتیجہ سامنے آیا ہے جس کے باعث صحافیوں کو منعظم ہوکر کام کرنے کے بجائے مختلف گروپوں میں تقسیم ہونے کی وجہ سے حادثات رونماء ہورہیں ہیں جو کہ تشویش ناک ہے 2017ء صحافیوں کے لئے 2015 ء اور2016ء سے بھی بدترین سال ثابت ہوگا صحافتی تنظیمیں گروپ بندیاں ختم کرکے ایک منعظم اتحاد قائم کریں تاکہ صحافیوں کو تحفظ مل سکے ۔