Cloud Front
UNO

شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق کے لیے اقوامِ متحدہ میں ووٹنگ

روسی قرار داد کے مسودے میں شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا گیا

نیویارک : اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل شام میں جنگ بندی کے معاہدے کی توثیق سے متعلق روسی قرار داد پر ووٹ ڈالے گی۔روسی قرار داد کے مسودے میں شام میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دی جانے والی امداد تک فوری رسائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔قرار داد میں شام میں گذشتہ پانچ برس سے جاری لڑائی کے خاتمے کے لیے ایک ماہ کے اندر قزاقستان میں امن مذاکرات کا انعقاد جس میں روس اور ترکی ضامن کا کردار ادا کریں گے، کی بھی حمایت کی گئی ہے۔دوسری جانب شام میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود حکومت اور باغی فوجوں کے درمیان کچھ علاقوں سے جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔شام میں جنگ بندی کے اس معاہدے میں شدت پسند گروہ دولت اسلامیہ اور جب الفتح الشام جو پہلے النصرہ کے نام سے جانی جاتی تھی، شریک نہیں ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں روس کی جانب پیش کی جانے والی یہ قرارداد ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سلامتی کونسل میں ویٹو کا اختیار رکھنے والے ارکان میں اختلاف پایا جاتا ہے۔روس شام کے صدر بشار الاسد کا حمایتی ہے جب کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس بات پر مصر ہیں کہ بشارالاسد شام میں جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے سے پہلے پر صورت میں مستعفی ہوں۔روس اور ترکی شامی تنازعے میں مختلف گروہوں کی حمایت کرتے ہیں تاہم ترکی بشار الاسد کی حکومت کے باغیوں کی بھی حمایت کرتا ہے۔

برطانیہ میں قائم انسانی حقوق کی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق شام میں جمعے کو حکومت اور باغی فوجوں کے درمیان متعدد علاقوں سے لڑائی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔تنظیم کے مطابق شام کے صوبے حما کے شمالی علاقے میں جھڑپیں اور فضائی حملوں کی اطلاعات ہیں۔سیریئن آبزرویٹری کا یہ بھی کہنا ہے کہ دمشق کے قریب باغیوں کے علاقے وادی برادعہ میں بھی بمباری ہوئی ہے تاہم شامی فوج نے ان اطلاعات کی تردید کی ہے۔شام میں گذشتہ پانچ برس سے جاری لڑائی میں اب تک 250,000 سے زیادہ افراد ہلاک اور تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں۔