Cloud Front

جرمن چانسلر نے اسلامی شدت پسندی کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا

شام اور حلب کی تباہی کی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے جرمنی کے لیے یہ کتنا ’اہم درست فیصلہ تھا، انجیلا مرکیل
ہمارے لیے سخت امتحانات سے بھرا سال تھا لیکن ہمیں یقین ہے ہم ان امتحانات میں کامیاب ہوں گے، سال نو کے موقع پر پیغام

برلن : جرمن چانسلر انجیلا میرکل نے اسلامی شدت پسندی کو ملک کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے دیا ہے۔غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق سال نو کے موقع پر اپنے پیغام میں انجیلا مرکیل کا کہنا تھا کہ شام اور حلب کی تباہی کی تصاویر سے یہ پتہ چلتا ہے کہ جرمنی کے لیے یہ کتنا ’اہم درست‘ فیصلہ تھا کہ ہم نے جنگ سے فرار ہونے والوں کو اپنے ہاں جگہ دی۔ ہمیں پناہ چاہنے والوں کی جانب سے دہشت گرد حملوں کا سوچ کر کراہیت آتی ہے۔انجیلا مرکیل نے کہا کہ ہم دہشت گردوں سے کہنا چاہتے ہیں کہ 2016 ہمارے لیے سخت امتحانات سے بھرا سال تھا لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہم ان امتحانات میں کامیاب ہوں گے۔

ہم آزاد، بامروت اور روشن خیال ہیں۔ ہماری جمہوریت، قانون کی بالا دستی اور اقدار دہشت گردی کی نفرت انگیز دنیا کے خلاف ہیں، تم نفرت سے بھرے قاتل ہو لیکن تم یہ طے نہیں کر سکتے کہ ہم کیسے رہیں یا ہم کیسے جینا چاہتے ہیں۔واضح رہے کہ رواں برس خانہ جنگی کا شکار مسلم دنیا سے تعلق رکھنے والے کئی پناہ گزینوں نے جرمنی میں دہشت گردی کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا، دو ہفتوں قبل تیونس کے پناہ گزین نے برلن میں کرسمس کے موقعے پر بھرے بازار پر ٹرک چڑھا دیا تھا جس کے نتیجے میں 12 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔