Cloud Front

سعودی حکومت کی ایران کو حج کے انتظامات پر بات چیت کے لئے دعوت

مسلک اور فرقے سے وابستگی سے بالاتر ہوکر مسلم ممالک اور اقلیت کے حج نمائندوں سے انتظامات کے لئے رابطہ قائم کیا جائے، خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی ہدایت

جدہ : سعودی حکومت نے ایران کو حج 1438ھ کے انتظامات پر بات چیت کے لئے باقاعدہ دعوت دے دی ہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے ہدایت دی ہے کہ مسلک اور فرقے سے وابستگی سے بالاتر ہوکر مسلم ممالک اور اقلیت کے حج نمائندوں سے انتظامات کے لئے رابطہ قائم کیا جائے، سعودی وزیر حج و عمرہ نے یہ اطلاع دیتے ہوئے واضح کیا کہ مسلم ممالک اور تمام مسلم اقلیتوں والی ریاستوں کے ساتھ حج انتظامات کی بابت گفت و شنید کے لئے ملاقاتوں کا پروگرام شروع کردیا گیا ہے، فیوف الرحمان کو مطلوبہ سہولتیں اور آسانیاں فراہم کرنے کی ضامن حج ہدایات پیش کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر ممالک کی طرح ایرانی حج وفد کو بھی حج خدمات و انتظامات پر بات چیت کے لئے گزشتہ سال کی طرح اس سال بھی دعوت دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ سعودی حکومت قومیت یا مسلم و فرقے سے وابستگی سے بالاتر ہوکر ہر ملک، ہر قوم، ہر فرقے اور ہر ملک کے حجاج و معتمرین کو ارض مقدس میں خوش آمدید کہتی ہے۔

ہر ملک کے عہدیداروں کے ساتھ حج انتظامات کے حوالے سے ربط و ضبط پیدا کرتی ہے، تمام مسلم اور اقلیتوں والے ممالک کو حج موسم میں آسانی پیدا کرنے کے لئے حج قوانین و ضوابط سے مطلع کرتی ہے۔ جنرل سنڈیکیٹ یونائیٹڈ ایجں ٹ آفس اور مدینہ منورہ میں ادارے کے ساتھ بھی رابطہ رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزارت حج و عمرہ کی حکمت عملی یہ ہے کہ تمام فریقوں اور حج امورکے تمام نمائندوں کے ساتھ ربط و ضبط پیدا کیا جائے۔ ارض مقدس آنے والے عازمین کو ایمان افروز روح پرور منظم ماحول مہیا کیا جائے۔ یاد رہے کہ ایران نے پچھلے سال ایرانی عازمین کو حج کے لئے ارض مقدس بھیجنے سے باقاعدہ طور پر منع کردیا تھا، ایرانی حکومت نے حج انتظامات کے حوالے سے مفاہمتی یادداشت پر دستخط سے انکار کردیا تھا۔ اس کا مطالبہ تھا کہ ایرانی حاجیوں کو ارض مقدس میں مظاہرے کرنے کی اجازت ہے اور عام انتظامات سے ہٹ کر ان کے لئے خصوصی اہتمام کیا جائے۔ سعودی عرب نے حج موسم کو ہنگامہ آرائی اور جلسے جلوس کی سرگرمیوں سے پاک صاف رکھنے کے لئے یران کے مذکورہ مطالبات قبول کرنے سے معذورت کرلی تھی۔