Cloud Front
misbah ul Haq

ریٹائرمنٹ لینے کا کو ئی ارادہ نہیں ، بات غصے اور مایوسی میں کہہ دی تھی،مصباح الحق

تیسرا ٹیسٹ کھیلو ں گا ، وطن واپسی پر پی سی بی چیئرمین سے ملاقات کرکے اپنے مستقبل کا فیصلہ کر وں گا ،میڈیا سے گفتگو

سڈنی: میلبرن ٹیسٹ میں شکست کے بعد ریٹائرمنٹ کا عندیہ دینے والے قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے کرکٹ سے کنارہ کشی کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے ریٹائرمنٹ کی بات غصے اور مایوسی میں کہہ دی تھی۔یاد رہے کہ میلبرن میں اننگز اور 18 رنز کی حیران کن شکست پر مایوس مصباح الحق نے فوری ریٹائرمنٹ کا عندیہ دیا تھا اور کہا تھا کہ وہ حتمی فیصلہ آئندہ دو سے تین دن میں کریں گے۔اس بیان کے بعد مصباح الحق کی سڈنی میں ہونے والے تیسرے ٹیسٹ میچ میں شرکت بھی مشکوک نظر آتی تھی لیکن گزشتہ روز انہوں نے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ موخر کرتے ہوئے تیسرا ٹیسٹ کھیلنے کی تصدیق کی تھی۔ذرائع کے مطابق مصباح ٹیم کی وطن واپسی پر پی سی بی چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کریں گے اور اس کے بعد ہی اپنے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔لیکن سڈنی سے ایک دن قبل پیر کو میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے قومی ٹیم کے کپتان مصباح الحق نے ریٹائرمنٹ کی باتوں کی یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے یہ بیان غصے اور مایوسی میں دے دیا تھا۔انہوں نے میلبرن میں دیے گئے بیان پر کہا کہ وہ ٹیم کی شکست پر غصے میں وہ بیان دے گئے تھے اور وہ بات اب پرانی ہو گئی۔

انہوں نے کہا کہ سپورٹ اسٹاف سے لے کر کھلاڑیوں تک ہر ایک لڑنے کیلئے تیار ہے تو میں بھی تیار ہوں۔ مجھے اپنی بہترین کرکٹ کھیلنا ہو گی۔پاکستان کی ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کے کامیاب ترین کپتان نے اپنے سابقہ بیان کی نفی کرتے ہوئے کہا کہ وہ ابھی ریٹائرمنٹ کے بارے میں بالکل نہیں سوچ رہے۔2001 میں ڈیبیو کرنے والے مصباح الحق نے 2010 کے اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل کے بعد پاکستانی ٹیم کی کمان سنبھالی اور مایوسیوں کے گرداب میں پھنسی ٹیم میں نیا جوش و ولولہ پیدا کر کے اس کو فتح کی راہ پر گامزن کیا۔پاکستان کو عالمی نمبر ایک ٹیسٹ ٹیم بنانے والے کپتان نے اگلے ٹیسٹ میچ میں ٹیم میں تبدیلیوں کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ کنڈیشنز کو دیکھ کر ٹیم میں تبدیلیاں کی جائیں گی، روایتی طور پر سڈنی کی وکٹ آسٹریلیا کی دیگر وکٹوں سے مختلف ہوتی ہے لیکن ٹیم میں تبدیلیوں کا انحصار وکٹ دیکھ کر کیا جائے گا۔یاد رہے کہ سڈنی کی وکٹ عام طور پر اسپنرز کیلئے سازگار ہوتی ہے اور پاکستان ممکنہ طور پر ایک فاسٹ باؤلر کو ڈراپ کر کے ان کی جگہ محمد نواز کو مقع فراہم کر سکتا ہے۔