Cloud Front

سندھ ایپکس کمیٹی کا اجلاس؛ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق وفاق کے کردار پر تحفظات

16 دہشت گردوں کو ملٹری کورٹ سزائے موت کی سزا دے چکی ہے، 19 مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔ لیگل کمیٹی نے مزید 9 کیسز ملٹری کورٹس کے لئے کلئیر کئے ہیں، سیکرٹری داخلہ کی شرکا کو بر یفنگ
آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے 12 روز کی جبری رخصت کے بعد دوبارہ چارج سنبھالنے کے بعد اجلاس میں شرکت کی

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے صوبائی اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاق کی جانب سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہ کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی سربراہی میں صوبائی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید ، صوبائی چیف سیکریٹری، سینیئر وزیر نثار کھوڑو اور مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو کے علاوہ آئی جی سندھ اللہ ڈنو خواجہ نے بھی شرکت کی، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا اور ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے اپنا چارج سنبھالنے کے بعد پہلی مرتبہ ایپکس کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی جب کہ آئی جی سندھ اے ڈی خواجہ نے بھی 12 روز کی جبری رخصت کے بعد دوبارہ چارج سنبھالا ہے۔

اجلاس میں سیکرٹری داخلہ نے شرکا کو بتایا کہ 16 دہشت گردوں کو ملٹری کورٹ سزائے موت کی سزا دے چکی ہے جب کہ 19 مقدمات اب بھی زیر سماعت ہیں۔ سندھ کی لیگل کمیٹی نے مزید 9 کیسز ملٹری کورٹس کے لئے کلئیر کئے ہیں۔اجلاس کے بعد مولا بخش چانڈیو نے میڈیا بریفنگ میں کہا کہ اجلاس کے دوران کراچی میں امن کی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کیا گیا ہے، سندھ میں اداروں کو لڑانے کی کوشش کی گئی لیکن ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے یہ تاثر ختم ہوگیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں وزیراعلیٰ نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ وفاق نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد سے متعلق اپنی ذمہ داری پوری نہیں کررہا، کالعدم تنظیموں سے متعلق وفاق کی کوئی واضح پالیسی نہیں۔