Cloud Front
Mola Baksh Chandio

متعدد کالعدم تنظیموں کو وفاق کی حمایت حاصل ہے، مولا بخش چانڈیو

جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاق حکومت نے سکون کا سانس لیا،متعدد کالعدم تنظیموں کو وفاق کی حمایت حاصل ہے،مولا بخش چانڈیو
اداروں کے درمیان تصادم کی افواہیں پھیلائی گئیں وفاق نے مدارس کی اصلاحات کے حوالے کیا کیا ہے؟ مشیر اطلاعات سندھ کی میڈیا سے گفتگو
کراچی : مشیر اطلاعات سندھ مولا بخش چانڈیو نے کہا ہے کہ اداروں کے درمیان تصادم کی افواہیں پھیلائی گئیں وفاق نے مدارس کی اصلاحات کے حوالے کیا کیا ہے متعدد کالعدم تنظیموں کو وفاق کی حمایت حاصل ہے ۔ وفاق نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں ۔جنرل راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاق حکومت نے سکون کا سانس لیا ۔ رینجرز نے کئی غلط جگہوں پر چھاپے مارے ہیں جن پر ہمیں تحفظات ہیں وفاقی حکومت کو اب کرنے اور دکھانے کے لئے کچھ نہیں رہا ہے ۔

کراچی میں جرائم میں واضح کمی آئی ہے ۔ کور کمانڈر ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ نے خوشگوار ماحول میں بات چیت کی اور تقرریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔پیر کے روز سندھ ایپکس کمیٹی اجلاس کے بعد مشیر اطلاعات مولا بخش چانڈیو نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایپکس کمیٹی میں سٹریٹ کرائم پر خصوصی بات چیت کی گئی ہے اور آج کارکردگی کے متعلق باتیں ہوئی ہیں اور اجلاس خوشگوار انداز میں ہوا ہے انہوں نے کہا کہ تمام اداروں نے امن و امان کی بحالی میں اپنا کردار ادا کیا ہے اب امن و امان سے متعلق بہتر نتائج آئے ہیں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ نے وفاق کا ذمہ داری پوری نہ کرنے کا معاملہ بھی اٹھایا ہے وزیر اعلی نے تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ وفاق نیب پر ذمہ داری پوری نہیں کر رہا ۔مشیر اطلاعات نے کہا ہے کہ نیشنل ایکشن پلان کے تحت وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا ۔

وفاقی حکومت کو اب کرنے اور دکھانے کے لئے کچھ نہیں رہا غیر قانونی اسلحہ کنٹرول کرنا وفاق کی ذمہ داری ہے سندھ میں اسلحہ نہیں بن رہا کہیں سے آرہا ہے وفاق اس پر نوٹس کیوں نہیں لیتی ۔ مولا بخش چانڈیو نے کہا کہ وفاقی حکومت نے مدارس کے معاملے پر اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی ۔ وفاق نے مدارس اصلاحات کے حوالے سے کیا کیا ہے وفاقی حکومت اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہی کئی کالعدم تنظیمیں جلسے کر رہی ہیں مگر وفاقی حکومت کچوھ نہیں کر رہی ۔ متعدد کالعدم تنظیموں کو وفاق کی حمایت حاصل ہے وفاق نے کالعدم تنظیموں کی پالیسی کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا ۔وزیر داخلہ کہاں ہیں ؟ حکومت کیا کر رہی ہے انہوں نے مزید کہا کہ اے ڈی خواجہ آج اجلاس میں موجود تھے اور خوشگوار موڈ میں تھے اگر اب اے ڈی خواجہ ناخوش ہیں یا نہیں ان سے پوچھیں ۔

آئی جی سندھ کو حکومت سے کوئی تاثرات نہیں ۔ سال نو کے پہلے اجلاس میں کور کمانڈر ، ڈی جی رینجرز اور آئی جی سندھ سب نے خوشگوار موڈ میں بات کی اور تقرریوں پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ مشیر اطلاعات سندھ نے کہا کہ جنرل (ر) راحیل شریف کے جانے کے بعد وفاق نے سکون کا سانس لیا ۔ اداروں کے درمیان تصادم کی افواہیں پھیلائی گئیں ۔ جو محض افواہیں تھیں وزیر اعلی نے حکم دیا ہے کہ سٹریٹ کرائم ختم کرنے کے لئے فوری اقدامات کریں اجلاس میں کراچی کے امن پر بھی بات کی گئی ۔انہوں نے مزید کہا کہ رینجرز نے کہیں غلط جگہوں پر چھاپے مارے ہیں جن پر ہمیں تحفظات ہیں ایسی جگہوں پر چھاپے مارے گئے جو انور مجید کے نہیں تھے ہم نے انور مجید سے متعلق ہونے والی کارروائی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا ہے آج اجلاس میں بھی انور مجید پر بات چیت ہوئی ہے ایک سوال کے جواب پر انہوں نے کہاکہ جہاں سے آصف زرداری اور بلاول بھٹو زرداری الیکشن لڑنا ہے وہ پی پی کے روایتی حلاے ہیں ۔