Cloud Front
Senat

سینیٹ نے ہندو میرج بل 2016ء منظور کر لیا !

اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ہندو میرج بل 2016ء منظور کر لیا۔ اس بل کو قومی اسمبلی پہلے ہی منظور کر چکی ہے۔ بل کے تحت اٹھارہ سال سے کم عمر ہندو جوڑے شادی پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ اس کمیٹی کا اجلاس پیر کو کمیٹی کی چیئرپرسن نسرین جلیل کی صدارت میں ہوا اور جس میں سینیٹر ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، ستارا اعجاز، اعتزاز احسن، مفتی عبدالستار، نثار محمد، ڈاکٹر اشوک کمار اور فرحت اللہ بابر کے علاوہ چند ہندوں رکن قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے بھی شرکت کی جن میں ڈاکٹر رمیش کمار، وانک وانی، ڈاکٹر اشوک کمار، ڈاکٹر درشن اور سنجے پیروانی شامل تھے۔ اجلاس میں اس بات پر انتہائی تشویش کا اظہار کیا گیاکہ کچھ کالعدم تنظیمیں پورے ملک میں آزادی کے ساتھ کام کر رہی ہیں اور مطالبہ کیا گیا کہ ان کالعدم تنظیموں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہونی چاہیے اور کوئٹہ کے سانحے پر جسٹس فیض عیسیٰ کی رپورٹ پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے۔

سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کچھ کالعدم تنظیموں کو تحفظ دینے کے ایشو پر بات کرتے ہوئے پوچھا کہ جیش محمد کے سربراہ مولانا مسعود اظہر پر اقوام متحدہ کی جانب سے جو پابندی لگائی گئی ہے اسے پاکستان میں نہ لگانے کی کیامنطق ہے؟ انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی حکومت نے جیش محمد کو تحفظ دینے کے لئے نہ کہا ہوتا تو چینی حکومت بیچ میں نہ آتی۔ ہمیں یہ بتایا جائے کہ جس تنظیم پر پاکستان میں عسکریت پسند تنظیم ہونے کی وجہ سے پابندی لگائی گئی ہے اس تنظیم کو اقوام متحدہ کی پابندیوں سے کیوں تحفظ دیا جا رہا ہے؟ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستانی حکومت اس سلسلے وضاحت کرے۔ انہوں نے کہا کہ کسی تنظیم پر پابندی لگانا اور کسی پر نہ لگانا بہت سے سنجیدہ سوالات اٹھاتا ہے۔

کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ وہ حکومت پاکستان سے اس بارے وضاحت طلب کرے گی۔ کمیٹی نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وزارت داخلہ نے نیکٹا کے بورڈ آف گورنر کا اجلاس گزشتہ دو سالوں میں ایک مرتبہ بھی نہیں بلایا ۔ وزیر داخلہ نے جواب میں یہ کہا ہے کہ یہ سوال ان سے نہیں بلکہ وزیراعظم سے پوچھا جائے۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ سینیٹ کمیٹی نے نیکٹا ترمیمی بل گزشتہ مئی میں منظور کیا تھا لیکن اس پر اب تک کوئی پیشرفت نہیں ہوئی۔ کمیٹی نے وزارت داخلہ کو ہدایت کی کہ نیکٹا ترمیمی بل پر پیشرفت کی جائے۔

نیشنل کمیشن آن ہیومن رائٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ احمدیوں کی عبادت گاہوں پر چکوال کے علاقے دلمیال پر حملے کا بنیادی کردار ایک پاکستانی نژاد کینیڈا کا شہری ہے جو اب تک آزاد گھوم رہا ہے۔ این سی ایچ آر نے اس شخص کے حملے میں ملوث ہونے کے بارے کینیڈا کے ہائی کمیشن کو خط بھی لکھا ہے۔ کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ جو لوگ اپنا گھر بار چھوڑ کر چلے گئے ہیں انہیں دوبارہ آباد کیا جائے اور متاثرین کو معاوضے دئیے جائیں۔ سینیٹر فرحت اللہ بابر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ مزدوروں کو یونین سازی کے مواقع کم دئیے جا رہے ہیں اور تقریباً 90فیصد مزدور یونین سازی کے حق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں اس معاملے کو ایجنڈے پر رکھا جائے۔ کمیٹی نے مزدورں کے قوانین اور یونین سازی کے مسئلے کو اگلے اجلاس میں ایجنڈے پر رکھنے کا فیصلہ کیا جس میں مزدور وں کے نمائندوں کو بھی مدعو کیا جائے گا۔ کمیٹی نے یہ فیصلہ بھی کیا کہ بی آئی ایس پی کے وسیلہ روزگار پروگرام کے تحت سروس پروائڈرز کو تربیت کی رقم ابھی تک نہ فراہم کرنے کے مسئلے کو بھی اٹھایا جائے گا۔