Cloud Front
Mian Raza Rabani

الیکشن کمیشن اختیارات کے استعمال میں خوف کا شکار ہے تو قانون کا کیا قصور، میاں رضا ربانی

بد قسمتی سے ملک میں بیورو کریسی اور اشرافیہ شراکت اقتدار کے لئے تیار نہیں اس لئے سیاسی جماعتوں اور اداروں کو ترقی کرنے کا موقع نہیں ملتا، ملک میں جمہوریت، صوبائی خودمختاری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ، چیئرمین سینیٹ کا انتخابی اصلاحات کی منعقدہ تقریب سے خطاب

اسلام آباد : چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن با اختیار آئینی ادارہ ہے وہ اپنے اختیارات کے استعمال میں خوف کا شکار رہے تو اس میں قانون کا کیا قصور ہے ،بد قسمتی سے ملک میں بیورو کریسی اور اشرافیہ شراکت اقتدار کے لئے تیار نہیں اس لئے سیاسی جماعتوں اور اداروں کو ترقی کرنے کا موقع نہیں ملتا۔منگل کے روز اسلام آباد میں انتخابی اصلاحات کے حوالے سے منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئر مین سینٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ خوش آئند بات ہے کہ ارکان پارلیمنٹ کو احساس ہے کہ انتخابی قوانین میں کمزوریاں ہیں انتخابی قوانین میں کمی بیشی کو دور کرنے کے لئے پارلیمنٹ کی خصوصی کمیٹی دو سال سے انتخابی اصلاحات پر کام کر رہی ہیں۔ اچھی بات ہے کہ تمام الیکشن قوانین کو ایک قانون کے تحت لایا گیا ہے۔

اس قانون کے تحت الیکشن کمیشن کے مالی اختیارات بڑھا دیئے گئے ہیں۔ انتخابی اصلاحات کی کمیٹی کو رپورٹ میں خامیوں پر بات نہیں کرونگا کیونکہ یہ میرے منصب کے برعکس ہو گا۔ پارلیمنٹ کو خرابیوں کا ذمہ دار ٹھہرانا خود پر الزام عائد کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی تشکیل آئین کے تحت ہوتی ہے۔ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ الیکشن کو آئین کے تحت کسی بات کا خوف ہے الیکشن کمیشن خود ہی اپنے اختیارات استعمال نہ کرے تو قانون کا کیا قصور ہے۔ الیکشن کمیشن عدلیہ اور فوج کی طرف مسلسل دیکھتی رہے تو اس ملک میں کیا ہو سکتا ہے۔

رضا ربانی نے کہا کہ ماضی میں الیکشن کمیشن نے اپنی ذمہ داریوں سے انحراف کیا۔ الیکشن کمیشن کو پاکستانی عوام کو اس بات کا یقین دلانا ہو گا کہ ان کے ووٹوں سے ملک میں تبدیلی آئے گی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں جمہوریت، صوبائی خودمختاری کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ وفاق کو صرف آئین اور جمہوری نظام کے تسلسل سے اکٹھا رکھا جا سکتا ہے۔ اب عوام اور آئین کے خلاف اقدامات کو چیلنج کرنا ہو گا۔ بد قسمتی سے اس ملک میں سیاسی جماعتوں کو کام کرنے کا ماحول فراہم نہیں کیا گیا اور نہ ہی ملک اداروں کی ترقی کا موقع ہی نہیں دیا جاتا۔ ملک کی بیوروکریسی اور اشرافیہ جمہوریت شراکت اقتدار کے لئے تیار ہی نہیں ہے۔