Cloud Front
SUprem Court

پاناما کیس : تحریک انصاف نے سپریم کورٹ میں اضافی دستاویزات جمع کرادیئے

تحریک انصاف نے شریف برادران کی لندن میں جائیدادوں سے متعلق مصدقہ دستاویزات حاصل کر لی جو برطانوی قانون کے مطابق سرکاری طور پر تصدیق شدہ ہیں، لارجر بینچ آ ج پاناما کیس کی سماعت آ ج کر ے گا

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے شریف برادران کی لندن میں جائیدادوں سے متعلق مصدقہ دستاویزات حاصل کرلی ہیں جنہیں سپریم کورٹ میں بھی شواہد کے طور پر جمع کرادیا گیا ہے۔ میڈیا رپو رٹ کے مطابق پاکستان تحریک انصاف نے شریف برادران کی لندن میں جائیدادوں سے متعلق مصدقہ دستاویزات حاصل کر لی ہیں۔ یہ تمام دستاویزات برطانوی قانون کے مطابق سرکاری طور پر تصدیق شدہ ہیں اور انہیں حاصل کرنے میں جہانگیر ترین نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

تحریک انصاف کے ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ انہیں حاصل ہونے والی دستاویزات سے ثابت ہوتا ہے کہ شریف برادران 2006 سے پہلے بھی لندن میں ان جائیدادوں کے مالک تھے۔دوسری جانب سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں لارجر بینچ آ ج بدھ سے پاناما کیس کی سماعت از سر نو شروع کررہا ہے۔ تحریک انصاف نے 40 صفحات پر مشتمل یہ اضافی دستاویزات سپریم کورٹ کے رجسٹرار آفس میں بھی جمع کرادی ہیں،

ان دستاویزات میں وزیر اعظم نواز شریف کے 2012 کے انٹرویو کا متن شامل ہے، اس کے علاوہ ان میں انکشاف کیا گیا ہے کہ موزیک فرانزیکا نے منروا سورسز اور اور سامبا فنانشل گروپ کو ہر چھ ماہ بعد ملکیت کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی تھی جس پر منروا سروسز نے مریم صفدر کو آف شور کمپنیوں کا بینی فیشل اونر بتایا تھا۔واضح رہے کہ وزیراعظم نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ میں قطر کے سابق وزیر خارجہ کا ایک خط پیش کیا گیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ لندن کے فلیٹس 2006 میں میاں شریف کی جانب سے کی گئی سرمایہ کاری کے بدلے حسین نواز کے نام کئے گئے تھے۔