Cloud Front
Sindh Taas

سندھ طاس معاہدہ پرامن تعاون کی مثال ، دونوں ممالک کو تنازع بات چیت سے حل کر نا ہو گا : امریکہ

افغانستان میں قیام امن کیلیے پاکستان، چین اور روس کے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں ،ترجمان امریکی محکمہ خارجہ

واشنگٹن: امر یکہ نے کہا ہے کہ سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پرامن تعاون کی ایک مثال ہے۔ دونوں ممالک معاہدے سے متعلق تنازع کو بات چیت سے حل کریں۔ ترجمان امریکی محکمہ خا رجہ جان کربی نے پریس بریفنگ میں افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان، چین اور روس کے مذاکرات کا خیر مقدم کیا ہے۔انہوں نے کہاہے کہ بات چیت آپس میں ہو یا کئی ملکوں کے درمیان یا مذاکرات ہمسایہ ملکوں اور غیر ہمسایہ ملکوں کے درمیان ہو رہے ہوں۔

افغان عوام کی بہتری کی تمام تر ذمہ داری افغانستان پر عائد ہو تی ہے۔جان کربی نے پریس بریفنگ میں سندھ طاس معاہدے پر پاک، بھارت کشیدگی کے حوالے سے کہا کہ اس بارے میں وزیر خارجہ جان کیری کی وزیر خزانہ اسحاق ڈار سے ٹیلی فون پر بات ہوئی ہے اور امریکا سمجھتا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے درمیان گزشتہ پچاس برسوں سے پرامن تعاون کی ایک عمدہ مثال ہے۔دونوں ممالک کو اس حوالے سے کوئی بھی تنازع باہمی بات چیت سے حل کرنا چاہئے۔

چین کی جانب سے بھارت کو سی پیک میں شمولیت کی دعوت کے سوال پر انھوں نے کہاکہ یہ معاملہ چین اور بھارت کا ہے امریکا اس پر کچھ نہیں کہہ سکتا ہے۔جان کربی نے کہاکہ افغانستان میں قیام امن کے حوالے سے پاکستان، روس اور چین کے درمیان ہونے والے مذاکرات کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ہم یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان میں قیام امن اور عوام کی بہتری کے لیے افغان حکومت سمیت تمام ہمسایا ممالک کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ بات چیت کے ذریعے یہ مقصد حاصل کریں اور قیام امن کے لیے تعمیری حل پیش کریں۔ ایک سوال کے جواب میں ترجمان محکمہ خارجہ نے کہا کہ گلبدین حکمت یار پر پابندی ختم کرنے کا فیصلہ اقوام متحدہ نے کرنا ہے۔