Cloud Front
Donald Trump

ٹرمپ اپنی جماعت کے قائدین کی رائے پر سیخ پا..!

امر یکی کانگرس نے سیاسی بدانتظامیوں کی تحقیقات کرنے والے آزاد ادارے کو بند کرنے کا فیصلہ تبدیل کر دیا
رپبلکن جماعت کے اراکین کا خفیہ ووٹنگ میں ادارے کو بند کرنے کے حق میں اپنی جماعت کے قائدین کی رائے کے خلاف ووٹ،ٹرمپ سیخ پا ہو گئے ، پا رٹی اراکین پر کڑ ی تنقید

واشنگٹن: امر یکی رپبلکنز کی نو منتخب کانگرس نے شدید ردعمل کے بعد سیاسی بدانتظامیوں کی تحقیقات کرنے والے آزاد ادارے کو بند کرنے کے منصوبہ کا فیصلہ تبدیل کر دیا ہے۔ رپبلکن جماعت کے اراکین نے خفیہ ووٹنگ میں آفس آف کانگریشنل ایتھکس یا اخلاقیات کے بارے میں آزاد ادارے کو بند کرنے کے حق میں اپنی جماعت کے قائدین کی رائے کے خلاف ووٹ دیا۔جس پر نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رپبلکن جماعت کے ان اراکین کو تنقید کا نشانہ بنایا جنھوں نے کانگرس کے ممبران پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے کے اختیارات کم کرنے کی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ہے۔نو منتخب صدر نے اس بارے میں ایک ٹوئٹ میں کہا کہ ‘ٹیکس اور صحت عامہ کی اصلاحات سمیت دیگر بہت سے اہم امور ہیں جن پر فوری توجہ کی ضرورت ہے۔

یہ خفیہ اقدام جو کہ 115ویں کانگریس کے پہلے دن حاوی رہا کو ایک ہنگامی میٹنگ میں واپس لے لیا گیا۔یاد رہے کہ امریکہ کو کرپشن سے پاک کرنا ڈونلڈ ٹرمپ کی مہم کا ایک اہم وعدہ تھا۔ڈیموکریٹ جماعت کے اراکین نے اس مجوزہ ترمیم پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے جس کے نو منتخب کانگرس کے پہلے اجلاس میں منظور ہونے کی توقع تھی۔ایوان نمائندگان کے رپبلکن اراکین کی طرف سے قواعد و ضوابط میں تبدیلی کی کوشش کو ڈیموکریٹس ارکان، طرز حکمرانی پر نظر رکھنے والے غیر سرکاری اداروں اور تنظیموں اور سیاسی مبصرین کی طرف سے تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔لیکن رپبلکن پارٹی کو وفاقی حکومت کی تمام سطحوں پر حاصل اکثریت اور اختیار اور عوام کی طرف سے عدم دلچپسی کے باعث اس ترمیم کا منظور ہو جانا اب بظاہر واضح ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے ہر معاملے پر فوری ٹویٹ کر کے اپنی رائے کے اظہار کی عادت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کس قدر جلد سیاسی معاملات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

کیونکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس مجوزہ ترمیم کی مخالفت کر دی ہے لہذا اب ایوان میں رپبلکن اراکین کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ کیا وہ اپنے نو منتخب صدر کو حلف اٹھانے سے قبل ہی ناراض کرنا چاہتے ہیں۔نو منتخب صدر کے لیے اب یہ ایک کڑا امتحان ہے کہ وہ کس طرح اپنی جماعت کے ارکان کو قائل کرتے ہیں۔ یا وہ اپنے صدارتی اختیارات کو استعمال کر کے اپنی جماعت کے اراکین کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے ہیں۔قبل ازیں امریکہ میں رپبلکن ایوانِ نمائندگان نے اراکین کانگرس کے خلاف الزامات کی تحقیقات کرنے والے آزاد ادارے کے اختیارات کم کرنے کے لیے رائے شماری کی۔

اگر یہ ترمیم منظوری کر لی جاتی ہے تو کانگرس کا اخلاقیات سے متعلق ادارہ جو کہ آزاد حیثیت سے کام کرتا تھا اب ایوان کی ایتھکس کمیٹی کے ماتحت آ جائے گا۔نو منتخب کانگرس کا اجلاس جب منعقد ہو گا تو اس ترمیم کو ایوان کیسامنے رکھا جائے گا۔ایوان میں موجود ریپبلکن پارٹی کے رہمنا بھی اس تبدیلی کے مخالف ہیں۔ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین نے اس ووٹنگ پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ایوانِ نمائیندگان کے قوانین میں تبدیلی کے لیے کانگرس کے ممبر مسٹر باب گڈلیٹ کی جانب سے پیش کی جانے والی اس تجویز سے مالی خرد برد اور اپنے عہدے کا ناجائزہ فائدہ اٹھانے یا اپنے اختیارات سے تجاوز کرنے والے اراکین پر نظر رکھنے والے آزاد ادارے کی وقعت اور اہمیت کم ہو جائے گی۔

اس قانون کی منظوری کی صورت میں جس کا امکان اسی لیے موجودہ ہے کہ کانگرس میں رپبلکن جماعت کو اکثریت حاصل ہے اس ادارے کا نام آفس آف کانگریشنل ایتھکس سے تبدیل کر کے کانگریشنل کمپلینٹ ریویو ہو جائے گا۔نئی تجاویز کے مطابق مجوزہ ادارے کے پاس یہ اختیارات نہیں ہوں گے کہ وہ گمنام ذرائع سے معلومات لے سکے نہ ہی اس کا کوئی ترجمان ہو گا اور وہ ہاؤس ایتھکس کمیٹی کے ماتحت کام کرے گا۔یہ بھی تجویز ہے کہ قانون دانوں پر لگنے والے الزامات کی تشہیر نہ کی جائے اور انھیں منظر عام پر نہیں لایا جائے جیسا اب کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ کی بھی رکن کے خلاف تحقیقات کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں سے رجوع کرنے سے پہلے کمیٹی کے ممبران سے اجازت لینی ضروری ہوگی۔

ایوان میں ڈیموکریٹک لیڈر نینسی پیلویسی کا کہنا ہے کہ یہ ترامیم او سی ای کو غیر مؤثر ادارہ بنا دے گی۔انھوں نے مزید کہا کہ ‘رپبلکن ارکان کا دعویٰ ہے کہ وہ دلدل کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن کانگرس کی حلف برداری سے ایک دن پہلے رپبلکن پارٹی نے اخلاقیات پر نظر رکھنے والے واحد آزاد ادارے کو ختم کر دیا ہے۔او سی ای کو سنہ 2008 میں بنایا گیا تھا۔ اس کی وجہ بہت سے کئی پریشان کن سکینڈلز کا سامنے آنا تھا جس میں جیک ابراموف کا وہ سکینڈل بھی شامل ہے جس میں فراڈ کے الزامات ثابت ہونے کے نتیجے میں انھیں جیل جانا پڑا تھا۔