Cloud Front
Netanyahu

اسرائیلی وزیرِ اعظم کا فلسطینی کے قاتل فوجی کے لیے معافی کا مطالبہ

یروشلم: اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نیتن یاہو نے فوجی عدالت کی طرف سے زخمی غیر مسلح فلسطینی حملہ آور کو قتل کرنے کا مجرم قرار دیے جانے والے اسرائیلی فوجی کو معاف کرنے کا مطالبہ کیا ہے بنیامن نیتن یاہو نے فوج کے اس معاملے سے نمٹنے کے طریقہ کار کا دفاع کیا لیکن اس کے ساتھ ہی سارجنٹ عازاریہ کے گھر فون کر کے ان کے خاندان کے ساتھ افسوس کا اظہار بھی کیا۔بنیامن نیتن یاہو نے فیس بک پر مطالبہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’میں الور عازاریہ کو معافی دیے جانے کی حمایت کرتا ہوں۔‘

مذکورہ فوجی پر الزام ہے کہ اس نے ایک زخمی فلسطینی حملہ آور کی مرتے ہوئے ویڈیو بنائی تھی حالانکہ اس وقت حملہ آور سے چاقو چھین لیا گیا تھا اور وہ غیر مسلح ہو چکا تھا۔20 سالہ اسرائیلی فوجی، سارجنٹ الور عازاریہ نے 21 سالہ فلسطینی عبدالفتح الشریف کو اس وقت سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا جب عبدالفتح الشریف سڑک پر پڑے ہوئے تھے اور وہ ہلنے کے قابل بھی نہیں تھے۔اس واقعے نے اسرائیلیوں کی آراء کو تقسیم کر دیا ہے۔ ادھر سرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ سارجنٹ عازاریہ کو اتوار کے روز سزا سنائی جائی گی۔۔سماعت کے دوران سارجنٹ الور ازاریہ کا موقف تھا کہ انھیں شک تھا کہ عبدالفتح الشریف نے خود کش جیکٹ پہن رکھی تھی۔ لیکن استغاثہ کا کہنا تھا کہ سارجنٹ عازاریہ نے عبدالفتح الشریف کو گولی مارنے کا قدم انتقام کے جذبے سے اٹھایا۔