Cloud Front
Senat

سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے رائل پام کیس میں تفتیش نہ کرنے پر نیب حکام کو طلب کر لیا

ریلوے حکام کی جانب سے رائل پام حکام کو خط نہ لکھنے پر خواجہ سعد رفیق کا برہمی کا اظہار
ممبر پنجاب بورڈ آف ریونیو کی عدم شرکت پر چیئر مین کمیٹی برہم ، آئندہ اجلاس میں شرکت یقینی بنا نے کی ہدایت
یہ اتنا بڑا گھپلا ہو چکا ، نیب کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، نیب کیا کمزور لوگوں پر ہاتھ ڈالتی رہے گی یا کسی طاقتور کو بھی پکڑے گی،سینیٹر جواد عباسی

اسلام آباد : سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے نے رائل پام کیس میں تفتیش نہ کرنے پر نیب حکام کو طلب کر لیا۔ ریلوے حکام کی جانب سے رائل پام حکام کو خط نہ لکھنے پر وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے برہمی کا اظہار کیا۔ تفصیلات کے مطابق سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کا اجلاس سینیٹر سردار فتح محمد حسنی کی صدارت میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر تاج دین حیدر ، سینیٹر نسرین جلیل، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ، سینیٹر مولانا حافظ حمد الدین ، سینیٹر جاوید عباسی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس میں رائل پام کیس، شالیمار ہسپتال اور ریلوے اراضی کو غیر قانونی طریقے سے ڈی ایچ اے بہاولپور کو دینے کا معاملہ زیر بحث آیا،

چیئر مین کمیٹی نے گزشتہ اجلاس میں جاری کئے گئے حکم پر عمل درآمد کے بارے پوچھا تو ریلوے حکام نے کہا کہ انکوائری مکمل ہو چکی ہے چند دنوں میں رپورٹ کر دی جائے گی۔ وفاقی وززیر ریلوے سعد رفیق نے رائل پام حکام کے قبضے سے اراضی واگزار کرانے کے لئے خط نہ لکھے جانے پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور دو دن کے اندر خط لکھ کر جواب جمع کروانے کی ہدایت کر دی ۔ سینیٹر جواد عباسی نے کہا کہ یہ اتنا بڑا گھپلا ہو چکا ہے اور نیب کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے۔ نیب کیا کمزور لوگوں پر ہاتھ ڈالتی رہے گی یا کسی طاقتور کو بھی پکڑے گی ۔ اس پر ریلوے حکام نے کمیٹی ممبران کو بتایا کہ کیس کے سابق انوسٹی گیشن نیب آفیسر تمام ملوث لوگوں کو کلین چٹ دے چکے ہیں۔

تاہم سپریم کورٹ آف پاکستان نے معاملے کا ازخود نوٹس لے رکھا ہے جس کی سماعت آئندہ چند روز میں ہونے کا امکان ہے ۔ سینیٹر جواد عباسی نے استفسار کیا کہ ریلوے کا وکیل کون ہے؟ جس پر ریلوے نے بتایا کہ ایڈووکیٹ سردار اسلم وکیل ہیں۔ چیئر مین کمیٹی سردار فتح محمد حسنی نے کہا کہ بہٹ سی ایس باتیں ہیں جن پر بحث ہوئی تو ریلوے بدنام ہو جائے گی۔ سینیٹر ترین جلیل نے ریلوے حکام سے پوچھا کہ سب اکاؤنٹس منجمند ہیں تو رائل پام فنڈز منتقل کیے جا سکتا ہے۔ جس پر سینیٹر تاج دین حیدر، سینیٹر جاوید عباسی نے چیئر مین کمیٹی کو کہا کہ نیب حکام کوآئندہ اجلاس میں طلب کیا جائے ۔ چیئر مین کمیٹی نے نیب حکام کو آئندہ اجلاس پر طلب کر لیا۔ ممبر پنجاب بورڈ آف ریونیو کی عدم شرکت پر چیئر مین کمیٹی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئندہ شرکت یقینی بنائیں ورنہ سخت ایکشن لیا جائے گا۔

ڈی سی او بہاولپور کی جانب سے مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے ریلوے اراضی ڈی ایچ اے بہاولپور کو الاٹ کرنے کے معاملے پر وزیر ریلوے نے کمیٹی کو بتایا کہ وزیراعلیٰ پنجاب سے بات ہو چکی ہے۔ ان کو کیس سے متعلق سمری بھجوا دی گئی۔ پنجاب حکومت بدلے میں اتنی قیمت کی ہی زمین دے گی یا رقم ادا کرے گی۔ کسی کو اختیار نہیں ہے کہ وہ ریلوے کی اراضی پر قبضہ کرے یا کسی کو بھی الاٹ کرے۔ ڈی ایس او بہاولپور کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق نے چیئر مین کمیٹی کو مشورہ دیا کہ آئندہ اجلاس رائل پام میں طلب کیا جائے تاکہ اندرونی معاملات کا بہتر طور پر جائزہ لیا جا سکے ۔ جس پر چیئر مین کمیٹی سردار فتح محمد حسنی نے آئندہ اجلاس رائل پام لاہور میں بلانے کی ہدایت کر دی