Cloud Front

موسیقی کے نامور پٹیالہ گھرانے کے معروف کلاسیکل گائیک استاد فتح علیخاں سپرد خاک

موسیقی کے نامور پٹیالہ گھرانے کے معروف کلاسیکل گائیک استاد فتح علیخاں لاہور میں انتقال کر گئے ، ان کو مومن پورہ قبرستان میں سپردخاک کر دیا گیا ، باغی کے لئے لاہور سے طارق مسعود کی رپورٹ

لاہور(‌ طارق مسعود ) ہندوستان کی موسیقی میں پٹیالہ گھرانے کے گائیکوں کو کلیدی حیثیت حاصل رہی ہے ، اس گھرانے کے ا ستاد علی بخش کو برٹش گورنمنٹ نے ان کی اعلٰی کارکردگی پر جرنیل کا خطاب دیا تھا ، استاد اختر حسین خان ان کے فرزند تھے ، اختر حسین کے دو بیٹوں امانت علیخان اور فتح علیخان نے اپنے گھرانے کی گائیکی کو خوبصورت انداز میں پرموٹ کیا ، ان دونوں بھائیوں کی جوڑی کو کلاسیکل گائیکی میں جو شہرت نصیب ہوئی وہ بہت کم کلاسیکل گائیکوں کے حصے میں آئی ،گلوکاروں کی اس جوڑی نے کلاسیکی موسیقی کی ترویج کے لئے خود کو وقف کر دیا ، راگ اور راگنیوں کے علاوہ انہوں نے مشرقی موسیقی کی تمام اصناف کو انتہائی مہارت اور کمال سے گایا ، اس کے علاوہ غزل ، ترانہ ، فوک اور گیت میں بھی ان کو کمال حاصل رہا ، ان کی گائیکی کے مختلف انداز لوگوں میں مقبول ہوئے،

اپنے بڑے بھائی استاد امانت علیخاں کی وفات کے بعد کلاسیکی موسیقی کی یہ معروف جوڑی ٹوٹ گئی ،استاد فتح علیخاں نے بعد ازاں اپنے تیسرے بھائی استاد حامد علیخان کے ساتھ مل کر جوڑی کی صورت میں گایا لیکن یہ جوڑی اس قدر مقبول نہ ہو سکی ، بعدازاں استاد فتح علیخاں بیماری کا شکار ہوکر اسلام آباد منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے ایک کلاسیکل موسیقی کی اکیڈمی کی بنیاد رکھی ا ور شائقین موسیقی کو تربیت دیتے رہے ،

حکومت پاکستان نے اس عظیم گائیک کو کئی اعزازات سے نوازا جن میں صدارتی تمغہ برا ئے حسن کارکردگی بھی شامل ہے ،ان کے بیٹے رستم فتح علیخان نے بھی اپنے گھرانے کی موسیقی کی ترویج کے لئے اس فن کو اپنایا لیکن بعدازاں وہ بھی اس فن کو وقت نہ دے سکے ، ہوتا تو یہ چاہیئے تھا امانت علیخان اور فتح علیخان کی اولادیں اس فن کی ترویج کے لئے مل کر کام کرتیں اور یوں کئی معروف کلاسیکل جوڑیاں منظر عام پر آسکتی تھیں لیکن شومئی قسمت ایسا نہ ہو سکا اور نئی نسل کے گائیکوں نے اپنی علیحدہ راہیں متعین کر لیں ،

استاد فتح علیخان بیاسی برس کی عمر میں اسلام آباد میں انتقال کر گئے ،ان کو لاہور میں مومن پورہ کے قبرستان میں ان کے بڑے بھائی استاد امانت علیخاں کے پہلو میں سپردخاک کر دیا گیا ، ان کے جنازے میں موسیقی کے گھرانوں کے علاوہ فن موسیقی سے وابستہ اصحاب کی بڑی تعداد نے شرکت کی ، استاد فتح علیخان کی وفات کے بعد کلاسیکی موسیقی کا ایک سنہرہ دور لد گیا ، شائقین موسیقی برسوں ان کی یاد کو دلوں او ر ذہنوں سے محو نہ کر سکیں گے ،