Cloud Front
Mobile apps

فون کمپنیاں ٹیکسیشن کی مد میں غریب عوام سے 365 ارب روپے سالانہ کما رہی ہیں

موبائل فون کمپنیاں ٹیکسیشن کی مد میں غریب عوام سے سالانہ بنیادوں پر 365 ارب روپے کما رہی ہیں، سینٹ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں انکشاف
مشرف دور میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کے باعث ملک بحرانی کیفیت سے دو چار ہے، انوشہ رحمان
پی ٹی سی ایل ملازمین کا معاملہ عدالت میں زیر التواء ہے اگر ملازمین کو تنخواہیں دی گئیں تو متعلقہ محکمہ ڈیفالٹر ہوجائے گا، وزارت انفارمیشن

اسلام آباد: سینٹ کی کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے انکشاف کیا ہے کہ موبائل فون کمپنیاں ٹیکسیشن کی مد میں غریب عوام سے سالانہ بنیادوں پر 365 ارب روپے کما رہی ہیں ، قومی خزانے میں ایف بی آر کا بہتر نظام نہ ہونے کے باعث پیسہ جمع نہیں ہورہا ، بندر بانٹ کی جارہی ہے ، ایف بی آر حکام پر شدید تنقید ، انوشہ رحمان نے کہا کہ مشرف دور میں ہونے والی مالی بے ضابطگیوں کے باعث ملک بحرانی کیفیت سے دو چار کیا ہے ،

کمپنی حکام نے واضح کیا ہے کہ سیالکوٹ سٹیڈیم پر 500ملین مختص نہیں ہوئے ، سینٹ سیکرٹریٹ نے انکوائری کمیٹی تشکیل دیدی ۔ وزارت انفارمیشن نے بتایا کہ پی ٹی سی ایل ملازمین کا معاملہ عدالت میں زیر التواء ہے اگر ملازمین کو تنخواہیں دی گئیں تو متعلقہ محکمہ ڈیفالٹر ہوجائے گا۔ بدھ کے روز سینٹ کی سٹیڈنگ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کااجلاس چیئرمین سینیٹر شاہی سید کی صدارت میں ہوا جس میں چیئرمین شاہی سید نے بتایا کہ موبائل فون کمپنیاں سالانہ بنیادوں پر ٹیکسیشن کی مد میں 365ارب روپے کما رہی ہیں جن میں عوام سے سروسز اور مینٹینس کے چارجز میں دس فیصد جی ایس ٹی اٹھارہ فیصد اور ود ہولڈنگ ٹیکس چودہ فیصد اور سیلز ٹیکس کی مد میں اٹھارہ اعشاریہ پانچ فیصد کٹوتی کی جاتی ہے

انہوں نے ایف بی آر حکام کو ہدایت کی کہ وہ فوری طور پر نظام کی بہتری کیلئے سفارشات مرتب کی جائیں بصورت دیگر حکام کیخلاف ایکشن لیا جائے گا چیئرمین نے واضح کیا کہ اگر ٹیکسیشن نظام میں بہتری نہ ہوئی تو وزیر خزانہ سے سینٹ میں وضاحت لی جائے گی اجلاس جب شروع ہوا تو وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی انوشہ رحمان نے سینٹ سیکرٹریٹ کی جانب سے اس خبر پر شدید احتجاج کیا کہ متعلقہ وزارت کی جانب سے سیالکوٹ میں تعمیر ہونے والے سٹیڈیم پانچ سو ملین روپے مختص کئے گئے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ سینٹ سیکرٹریٹ سے اس حوالے سے وضاحت طلب کی جائے کہ اس قسم کی خبریں کیوں جاری کی گئی ہیں انہوں نے کہا کہ کسی اخبار نے نہیں بلکہ سینٹ سیکرٹریٹ نے اپنی پریس ریلیز میں یہ خبر جاری کی ہے ۔ رحمان ملک ، روبینہ خالد نے موبائل کمپنیوں کی جانب سے ٹیکسیشن کی مد میں عوام پر ڈالے جانے والے بجھ پر شدید احتجاج کیا اور کہا کہ یہ غیر منصفانہ ٹیکس ہے موبائل کمپنیاں عوام سے لوٹ کھسوٹ کررہی ہیں ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے