Cloud Front
Om Puri

ہندوستان میں رہنے والا پاکستانی فنکار چل بسا!

رپورٹ :‌طارق مسعود، لاہور
بالی وڈ کے منفرد اور ہر دلعزیز اداکار اوم پوری ممبئی میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے

اوم پوری کا انتقال آج صبح ممبئی کے علاقے اندھیری میں اپنی رہائش گاہ پر ہوا،انہیں دل کا دورہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے ،۔۔۔۔۔۔ ان کی عمر 66 برس تھی ، وہ 18اکتوبر 1950 کو بھارتی پنجاب کے شہر امبالہ میں پیدا ہوئے ۔ن کے والد انڈین ریلوے کے علاوہ آرمی میں بھی ملازم رہے ، ان کا تعلق ایک نچلے متوسط طبقے سے تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوم پوری نے نیشنل سکول آف ڈرامہ ، فلم اور ٹیلی ویژن پونے کے گریجوایٹ تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوم پوری کے کیرئیر کا آغاز میراٹھی فلم ” گاشی رام کوتوال “سے ہوا،وہ بھارت میں شروع ہونے والی متوازی یا آرٹ فلم کے بانیوں میں سے تھے ،

آرٹ سینما میں انہون نے امریش پوری ، نصیر الدین شاہ ، سمیتا پاٹل اور شبانہ اعظمی کے ساتھ مل کر کام کیا ، ان کی معروف آرٹ فلموں میں بھاوانی بھاویہ ،مرچ مصالہ ،اردھ سیتا،سدگتی ا ور دھاروی نمایاں تھیں ۔۔۔اوم پوری نے 1999 میں کناڈ افلم آاے کے ”میں ایک ایسے انسپکٹر کا رول کیا جو شہر کو انڈر ورلڈ سے پاک کرنے کے لئے سخت اقدامات کرتا ہے ، اوم پوری نے ایک فلم ”ٰٓایسٹ ان ایسٹ ” میں ایک انگلینڈ میں مقیم پاکستانی امیگرینٹ کا رول خوبصورتی سے ادا کیا ، ا وم پوری کو1982 میں بننے والی فلم گاندھی کے کردار پر بے حد سراہا گیا ،اوم پوری نے جن دیگر برطانوی فلموں میں کام کیا ان میں ایسٹ ان ایسٹ ، مائی سن از فنیٹک اور دی پارلر آفس ،قابل ذکر ہیں ، اوم پوری نے ہالی وڈ میں بھی کام کیا جہاں اس نے دی سن آف جوائے ، وولف،دی گھوسٹ اینڈ دی ڈارک نس نمایاں ہیں ، اوم پوری نے ایک انگلش فلم چارلی ولسنز وار میں جنرل ضیاالحق کا کردار بھی خوبصورتی سے ادا کیا ۔

اوم پوری نے ٹی وی سیریلز اور سیریز میں بھی کام کیا اور اپنی انفرادیت قائم رکھی ،اس کے معروف سیریلز میں مسٹر یوگی اور کاکا کہیں نمایاں ہیں ،ان سیریلز میں اداکاری سے اوم پوری کی بطور کامیڈی اداکار پہچان ہوئی جس کے بعد اس نے کچھ کامیڈی فلموں میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے جن میں ”جانے بھی دو یارو”،چاچی 420 ،ہیرا پھیری ،چور مچائے شور اور مالا مال ویکلی شامل ہیں ،فلم سنگھ از کنگ ، میرے باپ پہلے آپ اور بلو شامل ہیں ۔اوم پوری نے درجنوں کمرشل فلموں میں بھی کام کیا جن میں بھومیکا ،گودہولی ،گاشی رام کوتوال،اروند ڈیسائی کی عجیب داستان،البرٹ پنٹو کو غصہ کیوں آتا ہے ، آکروش،بھاونی بھاویہ ،سدگتی،گاندھی ،وجیتا،چن پردیسی،اروہنا،اردھ ستیہ،جانے بھی دو یارو،لونگ دا لشکارہ ،دی جوئیل ان دی کراون،گدھ،مرچ مصالہ،ناسور،آگھاٹ،اک ہی مقصد ،بھارت اک کھوج،کاکا جی کہیں،گھائل،سیم اینڈ می ،نارشما ،مایا میم صاحب ،سٹی آف جوائے اور انکرم نمایاں ہیں ۔۔

اوم پوری کو اس وقت بھارت کے انتہا پسند ہندو وں نے سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے بھارت میں رہ کر پاکستان کے حق میں بیانات دیئے جس وے منتازعہ اداکار قرار پائے ، ان کے پاکستان کے دوروں اور پاکستانی فلموں میں کام کرنے پر بھی بھارت میں شدید رد عمل کا سامنا رہا ۔

اوم پوری کو آج صبح سویرے ممبئی کے علاقے اندھیری میں واقع اپنی رہائش گاہ پر دل کا دو رہ پڑا جس سے وہ جانبر نہ ہو سکے ، ان کے انتقال کی خبر پورے بھارت میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اور فلم ٹریڈ سے تعلق رکھنے والے درجنوں افراد ان کی ر ہائش گاہ پر پہنچ گئے ۔

اوم پوری نے بولی وڈ کی متعدد فلموں کے ساتھ ساتھ پاکستانی اور ہولی وڈ فلموں میں بھی کام کیا۔اوم پوری کی آخری پاکستانی فلم ‘ایکٹر اِن لا’ تھی، وہ پاک۔بھارت دوستانہ تعلقات کے زبردست حامی تھے اور دونوں ملکوں کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان کی حمایت میں بیان دینے پر اوم پوری کو شدید تنقید کا سامنا پڑا تھا۔انھوں نے برطانوی اور ہولی وڈ فلموں میں بھی متعدد پاکستانی کردار ادا کیے، جن میں ‘ایسٹ از ایسٹ اینڈ ویسٹ از ویسٹ’ میں جارج خان اور ‘چارلی ولسنز وار’ میں صدر ضیاء4 الحق کا کردار شامل ہے۔اوم پوری ہندوستان کے چوتھے بڑے سویلین اعزاز پدما شری سے بھی نوازا گیا۔اوم پوری کے انتقال پر بھارتی فلم انڈسٹری سوگ میں ڈوب گئی اور بولی وڈ کی مختلف سلیبرٹیز نے ٹوئٹر پر ان کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا۔