Cloud Front
Putin

امریکی انتخابات میں روسی ہیکنگ کا مقصدبے نقاب کر یں گے ،امریکہ

روس نے ہلیری کلنٹن کو شکست دینے کی غرض سے مداخلت کی تھی،ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس

واشنگٹن : امریکہ میں انٹیلی جنس کے اعلیٰ ترین اہلکار نے کہا ہے کہ ایک ہفتے کے اندر اندر اس بارے میں رپورٹ پیش کی جائے گی کہ روس نے امریکی انتخابات میں مداخلت کیوں کی۔ڈائریکٹر آف نیشنل انٹیلی جنس جنرل جیمز کلیپر نے کہا کہ روس کے صدر ولادی میر پوتن ڈیموکریٹک پارٹی کی ای میلز ہیک کرنے کا حکم دیا، اور اس کا مقصد اگلے ہفتے ظاہر کیا جائے گا۔امریکی صدارتی انتخابات کے دوران بیرونی دخل اندازی کے بارے میں صدر براک اوباما کورپورٹ پیش کی گئی۔

اس رپورٹ کے ‘غیر خفیہ’ حصوں کو اگلے ہفتے عام کیا جائے گا۔اعلیٰ انٹیلی جنس حکام نے سینیٹ کی آرمڈ سروس کمیٹی کے سامنے شہادت دی جو اس معاملے کی تفتیش کر رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ روس نے ٹرمپ کو اپنی حریف ہلیری کلنٹن کو شکست دینے کی غرض سے مداخلت کی تھی۔روس نے امریکہ کی طرف سے لگائے گئے ان الزامات کی تردید کی ہے لیکن اوباما انتظامیہ نے ان الزامات کی بنیاد پر روس کے خلاف پابندیاں عائد کر دی ہیں۔سنہ 2016 کے صدارتی انتخابات کی مہم کے دوران کمپیوٹر ہیکنگ کے ذریعے روس کی مبینہ دخل اندازی کے حوالے سے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے سینیئر اہلکار سوال و جواب کے لیے جمعرات کو کانگریس کے سامنے پیش ہوئے۔

یاد رہے کہ روسی ہیکروں پر انتخابی مہم میں مداخلت کے صدر اوباما کے الزام اور 35 روسی باشندوں کو امریکہ سے نکالے جانے کے علاوہ منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی امریکی خفیہ اداروں کی اس بات پر سوالات اٹھائے ہیں کہ ہیکنگ کے پیچھے روسی حکومت کا ہاتھ تھا۔ بر طا نو ی خبر رساں ادارے کے مطابق کانگریس میں سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے افسران کی پیشی کے اگلے دن سی آئی اے کے افسران اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان بھی ایک ملاقات طے ہے جس میں مذکورہ افسران منتخب صدر کو اس حوالے سے بریفنگ دیں گے کہ آیا ڈیموکریٹک پارٹی کے خلاف بھی ہیکنگ ہوئی تھی اور اس کے پیچھے کون تھا۔توقع ہے کہ کانگرس میں دونوں، ڈیموکریٹک پارٹی اور ریپبلکن پارٹی، کے ارکان اور منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان انتخابی مہم میں مبینہ ہیکنگ کے حوالے سے تنازع شدت اختیار کرنے جا رہا ہے۔

کانگرس کے کئی ارکان مسٹر ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادیمیر پوتن کی تعریف اور امریکہ اور روس کے درمیان کشیدگی کو ختم کرنے کی کوششوں کو شک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔خفیہ اداروں کے جو افسران جمعرات کو کانگرس کی کمیٹی برائے مسلح افواج کے سامنے پیش ہوئے ان میں نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر، نیشنل سکیورٹی ایجنسی کے ڈائریکٹر مائیک روجرز اور دفاعی امور کے نائب وزیر مارسل لیٹرے شامل ہیں۔ کانگرس کی اِس کمیٹی کی سربراہی ریپبلکن پارٹی کے جان مکین کر رہے ہیں

جو روسی صدر پر کھلے عام تنقید کرتے ہیں۔امریکہ کو درپیش ہیکنگ کے خطرے کے حوالے سے خفیہ اداروں کی پیشی سے ایک ہفتہ قبل صدر براک اوباما نے ان 35 روسی شہریوں کو امریکہ سے نکل جانے کا حکم دیا تھا جن پر شک ہے کہ وہ امریکہ میں روس کے لیے جاسوسی کر رہے تھے۔ امریکہ سے بے دخلی کے علاوہ صدر اوباما نے سنہ 2016 کے انتخابات میں مبینہ ہیکنگ کی وجہ سے روس کے دو خفیہ اداروں پر پابندیوں کا بھی اعلان کیا تھا۔امریکہ کے خفیہ اداروں کا دعویٰ ہے کہ صدارتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کی انتخابی ٹیموں اور دیگر امریکی اہلکاروں کے کپمیوٹرز میں جو ہیکنگ ہوئی تھی اس کے پیچھے روس تھا۔ انٹرنیٹ سکیورٹی کی ماہر بہت سی نجی تنظیمیں بھی سرکاری خفیہ اداروں کی اس رائے سے اتفاق کرتی ہیں کہ روسی ہیکروں نے انتخابی مہم کے دوران گڑ بڑ کی تھی۔

حالیہ عرصے میں امریکی خفیہ اداروں کے اہلکار یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ روسی ہیکنگ کا مقصد انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں ہیلری کلنٹن کو شکست دلانا تھا۔ ریپبلکن پارٹی کے کئی ارکان اتفاق کرتے ہیں کہ روسی ہیکروں نے انتخابات میں دخل اندازی کی تھی، لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد ڈونلڈ ٹرمپ کو فتح دلانا نہیں تھا۔یاد رہے کہ امریکی انتخابات سے کچھ دن قبل ڈیموکریٹک نیشنل سکیورٹی اور ہیلری کلنٹن کی انتخابی مہم کے سربراہ جان پوڈسٹا کے کمپیوٹروں سے کچھ دستاویزات خفیہ طریقے سے ذرائع ابلاغ کو جاری کی گئی تھیں جس سے ہیلری کلنٹن اور ان کے حامیوں کو شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا تھا۔