Cloud Front

لودھراں، ٹرین حادثہ کس کی غفلت سے ہوا ؟‌

لودھراں،ٹرین نے سکول کے بچوں سے بھرا رکشہ کچل ڈالا،7 کمسن بچوں سمیت8 جاں بحق ،3 زخمی
تینوں زخمی بہاولپور ریفر،حالت نازک ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ
ہزارہ ایکسپریس حویلیاں سے کراچی جارہی تھی ،حادثہ جلال پور ریلوے ٹریک پر پیش آیا
مرنیوالے بچوں کی عمریں 5 سے8 سال ہے ،ٹرین رکشے کو3 کلو میٹر تک گھسیٹتی رہی،عینی شاہد
گیٹ مین،ڈرائیور اور اسکے اسسٹنٹ کو حراست میں لے لیا ،ترجمان ریلوے
شدید دھند تھی سگنل نظر نہیں آیا،ابتدائی تفتیش میں ڈرائیور کا اعتراف
وزیراعلیٰ شہباز شریف ،وزیر ریلوے کا نوٹس ،رپورٹ طلب کرلی

حادثہ افسوسناک ہے، ذمہ داروں کیخلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی ،سعد رفیق
لودھراں: لودھراں میں آدم واہن ریلوے اسٹیشن کے قریب جلال پور ریلوے ٹریک پر ایک رکشہ ٹرین کی زد میں آنے سے سکول کے 7 بچوں سمیت 8 افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ3 زائد زخمی ہوگئے جنہیں بہاولپور ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے ،زخمیوں کی حالت نازک بتائی جارہی ہے ،ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ۔ تفصیلات کے مطابق سکول کے بچوں سے بھرا رکشہ جلال پور روڈ پر ریلوے پھاٹک سے گزر رہا تھا کہ حویلیاں سے کراچی جانیوالی ہزارہ ایکسپریس نے رکشے کو کچل ڈالا جس سے 6 بچے موقع پر ہی جاں بحق ہوگئے جبکہ 10 سے زائد افراد زخمی ہوگئے جنہیں قریبی ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے ،ذرائع کے مطابق ہسپتال میں مزید ایک کمسن طالب علم اور رکشہ ڈرائیور زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے،مرنے والے بچوں کی عمریں 5 سے8 سال تک بتائی جاتی ہیں۔ذرائع کے مطابق حادثے کے وقت ٹرین رکشہ کو تقریباً 3کلو میٹر تک گھسیٹتی رہی ،

رکشے میں 10 کم سن طالب علم سوار تھے ۔ذرائع نے بتایا کہ زخمیوں میں کئی کی حالت تشویشناک ہے ،عینی شاہد کے مطابق ریلوے پھاٹک کھلا ہوا تھا جب کہ حادثے کے وقت ریلوے کا کوئی ملازم اس وقت موجود نہیں تھا۔واقعے کے بعد بچوں کے لواحقین اور اہل علاقہ کی بڑی تعداد جائے حادثہ پہنچ گئی،دوسری جانب ریسکیو اہلکاروں نے لاشوں اور زخمیوں کو پہلے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹرز ہسپتال منتقل کیا اور بعدازاں شدید زخمیوں کو وکٹوریا ہسپتال بہاولپور ریفر کیا گیا،دوسری جانب ترجمان ریلوے نے بھی سکول کے 7 بچوں اور ایک شخص کے جاں بحق ہو نے کی تصدیق کر دی ہے اور کہا ہے کہ گیٹ مین ، ٹرین ڈرائیور اور اس کے اسسٹنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن سے حادثے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں،

وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے نے رین حادثے کا نوٹس لے لیا ہے اور حکام سے تحقیقاتی رپورٹ طلب کر لی ہے ،وفاقی وزیر ریلوے نے کہا کہ حادثے میں کم بچوں کی موت افسوس ناک واقعہ ہے ،ذمہ داروں کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائیگا ،قانون کے مطابق سخت کارروائی کی جائے گی ۔دوسری جانب ہزارہ ایکسپریس ٹرین کے ڈرائیور سے ابتدائی تفتیش شروع کر دی گئی جس میں انہوں نے اعتراف کیا ہے کہ شدید دھند کے باعث وہ سگنل نہیں دیکھ سکے جس سے یہ افسوسناک واقعہ رونما ہوا ہے ۔ملتان ڈویژن کی ڈی سی او ریلوے نبیلہ اسلم کے مطابق واقعے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داران کو سخت سے سخت سزا دی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے بھی واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے رپورٹ طلب کر لی ہے ،وزیراعلیٰ نے حادثے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایات دیں۔