Cloud Front
nawaaz sharif

پیپلزپارٹی کا 2016کی حکومتی ناقص کار کردگی پر’’ناکامیوں کے ریکارڈ‘‘کے نام سے وائٹ پیپر

پیپلزپارٹی کا 2016کی حکومتی ناقص کار کردگی پر ’’ناکامیوں کے ریکارڈ‘‘کے نام سے وائٹ پیپرجاری

لاہور: پیپلزپارٹی کی صوبائی پار لیمانی پارٹی پنجاب نے (ن) لیگی وفاقی اور صوبائی حکومت کی2016کی ناقص کار کردگی پر ’’ناکامیوں کے ریکارڈ‘‘کے نام سے وائٹ پیپر جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ(ن) لیگ کا بھوکا شیر غر یبوں کی جسم سے خون کا آخری قطرہ بھی نچو ڑ کی پالیسی پر گامزن ہے ‘ملک میں کر پشن اور لوٹ مار کے سیکنڈلز کا ’’جمعہ بازار ‘‘لگا ہے ‘ پانامہ لیک سمیت حکومتی اداروں کے25سے زائد کر پشن سیکنڈلز نے حکمرانوں کی کر پشن کو بے نقاب کر دیا ہے ‘(ن) لیگ ’’حکومت اور کر پشن بچاؤ ‘‘فار مولے پر چل رہی ہے ‘ریگولیٹری اتھارٹیز کو ختم کر کے متعلقہ شعبوں کو لوٹ مار کی کھلی چھٹی دیدی گئی ‘جسٹس قاضی عیسیٰ رپورٹ نے نیشنل ایکشن پر عملددرآمد کے حوالے سے حکومتی ناکامیوں کو بے نقاب کر دیا ‘ پی آئی اے‘ریلوے اور اسٹیل ملز کا خسارہ705ارب روپے تک پہنچ چکا ہے ‘حکومت سی پیک منصوبے پر اپوزیشن جماعتوں کے تحفظات ختم کر نے میں ناکام رہی ہے ‘انسانی وسائل کی ترقی کے لحاظ سے 188ممالک میں سے 146ملک پاکستان سے آگے ہیں ‘ایک سال میں حکومت نے2500ہزار کروڑ سے زائد کاقر ضہ لیا ‘ 63سے زائد ریلوے حادثات ہوئے ہیں ‘

مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں تنگ آکر150سے زائد افراد نے خودکشیاں کیں ‘ حکومتی پالیسوں کے خلاف صرف لاہور میں 1ہزار 624احتجاجی مظاہرے ہوئے‘2016 میں پنجاب میں کرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 6 فیصداور لاہور میں کرائم کی شرح میں 7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے ‘پنجاب میں خواتین سے زیادتی اور اجتماعی زیادی کے 86سے واقعات ہوئے ہیں ‘65ہزار 627اشتہاری پنجاب میں آزاد گھوم رہے ہیں ‘سر کاری ہسپتالوں میں جنوبی پنجاب میں مر یض لواحقین کو ’’گدا ریڑھی ‘‘پر ہسپتال اور گھر منتقل کرتے رہے ‘ایک ایک بیڈ پر سرکاری ہسپتالوں میں2/3سے مر یض پڑے ہیں ‘پنجاب میں 900سے زائد سر کاری سکول وکالجز مستقل سربراہوں سے محروم ‘5 سو زائد سکولوں پر کوئی نہ کوئی قبضہ ہے ‘

جنوبی ایشیا میں پاکستان تعلیم پر سب سے کم جی ڈی پی کا 2 فیصد خرچ کر نیوالے ملک ہے ۔پیپلزپارٹی کی پنجاب اسمبلی میں صوبائی پار لیمانی پارٹی کی جانب سے رکن پنجاب اسمبلی فائز ہ احمد ملک کے جاری کردہ’’ وائٹ پیپر ‘‘میں کہا گیا ہے کہ پی آئی اے ‘واپڈہ ‘ریلوے سمیت دیگر اداروں میں بہتری کا نعرہ لگانیوالے حکمرانوں کی ناقص پالیسوں کی وجہ سے آج پی آئی اے کا صرف ملکی قر ضہ 80ارب سے ایک سال میں بڑھ کر100ارب‘ واپڈہ نے صر ف ایک سال2016میں37ارب کا قر ضہ لیا اور اس کو مجموعی قر ضوں کا حجم56ارب ہو چکا ہے سٹیل ملزکا مجموعی قر ضہ 43ارب تک پہنچ چکا ہے پاور سیکٹر میں سر کلر ڈیٹ350ار ب سے ہے گیس کی قیمتوں میں20فیصد اضافے کے بعد قدرتی گیس سسٹم کو ہونیوالا سالانہ نقصان 6ارب سے زائد ہے تعلیم کے شعبے کے حوالے سے وائٹ پیپر میں بتایا گیا ہے کہ پنجاب پرائمری سکولوں میں داخل ہونے والے 33فیصد بچے 5ویں جماعت تک پہنچنے سے پہلے سکول چھوڑ جاتے ہیں‘

سٹینڈرڈ آف ایجوکیشن کے اعتبار سے پاکستان جنوبی ایشیا میں 123 ویں نمبر پر ہے پاکستان کا سکینڈری ایجوکیشن سسٹم 60سال پرانا ہے‘ دیہات میں لڑکوں میں شرح خواندگی 64فیصد جبکہ لڑکیوں میں یہ شرح 14فیصد ہے‘لاہور جیسے شہر میں 2 لاکھ 90 ہزار بچے سکول نہیں جاتے خواتین میں ناخواندگی کی یہ شرح شہروں میں 36.6 اور دیہات میں 69.4 فیصد ہے پنجاب میں جرائم کے حوالے سے وائٹ پیپر میں کہا گیا ہے کہ 2016 میں پنجاب میں کرائم کی شرح میں مجموعی طور پر 6 فیصداور لاہور میں کرائم کی شرح میں 7 فیصد تک اضافہ ہوا ہے‘ گینگ ریپ کی وارداتوں میں لاہور میں 75 فیصد، ڈی جی خان میں300 فیصد راولپنڈی میں 18 فیصد اور سرگودھا میں 17فیصد اضافہ ہوا ہے‘پنجاب میں 20دسمبر2016تک 2015کے مقابلے میں 23ہزار کے قریب زیادہ وارداتیں ہوئی ہیں2016میں لاہور سمیت پنجاب کے دیگر شہروں میں بچوں کے اغواء کے سیکنڈلز نے بھی پولیس کی نااہلی کو بے نقاب کرد یا وائٹ پیپر میں مزید کہا گیا ہے کہ سر دیوں میں گیس کی لوڈشیڈ نگ اور گر میوں میں بجلی کی لوڈشیڈ نگ کی وجہ سے پاکستان میں انڈسڑی بھی زوال کا شکار ہے اور اپٹما کے اپنے ریکارڈ کے مطابق ملک بھر500سے زائد مختلف ملز مکمل طور پر بند ہو چکیں ہیں اور20لاکھ سے زائد لوگ اس وجہ سے بے روزگار ہو ئے ہیں حکمرانوں نے اقتدار میں آنے سے پہلے ملک میں مہنگائی کے خاتمے کا دعویٰ کیا مگر سٹیٹ بنک آف پاکستان خود اس بات کی تصدیق کر رہا ہے کہ مہنگائی میں ایک سال کے دوران3.9فیصد سے زائد کا اضافہ ہو چکا ہے

ایل پی جی کی قیمتوں میں 10سے زائد بار اضافہ کر کے غر یبوں پر مہنگائی کے بم بر سائے گئے سال 2016 میں بھی حکومتی اخراجات اور شاہ خرچیوں سے قرضے کا بوجھ بڑھ گیا اور اب ہر پاکستانی اوسطا 1 لاکھ 15 ہزار 911 روپے کا مقروض ہو چکا ہے‘ پاکستان کے قرضوں اور واجبات میں سال کے دوران 26 کھرب 90 ارب روپے کا اضافہ ہواہے اس دوران حکومتی اداروں اور کارپوریشنوں کے اندرونی اور بیرونی قرضے 1 کھرب 19 ارب روپے کے اضافے سے 8 کھرب 72 ارب روپے سے تجاوز کر گئے جبکہ نجی شعبے کے غیر ملکی قرضوں کا حجم 121 ارب روپے کے اضافے سے 6 کھرب 83 ارب روپے ہو چکا ہے (ن) لیگ کی وفاقی اور پنجاب حکومت نے عوام کو تباہی اور بر بادی کے سواکچھ نہیں دیا موجودہ کر پٹ حکومت کا خاتمہ ہی ملک اور قوم کے مفاد میں ہوگا ‘ملک کو کر پشن سمیت دیگر مسائل سے نجات دلانے کیلئے ملک میں ا حتساب کا شفاف نظام ضروری ہے ورنہ تباہی اور بر بادی کو روکنا ممکن نہیں ہوگا ۔