Cloud Front

فوجی عدالتیں تحلیل ہوگئیں. . .!

فوجی عدالتیں آج تحلیل ہوگئیں. . .!
پشاور میں سانحہ آرمی پبلک سکول کے بعد فوجی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا گیا تھا تاکہ دہشتگردی کے مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹا کر قرار واقعی سزائیں سنائی جائیں. فوجی عدالتوں‌کی جانب مثبت فیصلے سامنے آتے رہے اور انسانیت کے دشمن عناصر کو سزائے موت سنائی جاتی رہی

فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی،274دہشتگردوں کو2سال میں سزائیں سنائی گئیں

اسلام آباد : دہشتگردی کے مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے بنائی گئی فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی ،274دہشتگردوں کو2سال میں سزائیں سنائی گئیں ۔تفصیلات کے مطابق 7جنوری 2015ء کوملک بھرمیں دہشتگردی کے مقدمات کی جلدسماعت کیلئے فوجی عدالتیں 2سال کے لئے بنائی گئی تھیں ،جن کی مدت جمعہ کی رات 12بجے ختم ہوچکی ہے ،اورعدالتوں میں توسیع کے لئے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاگیا،نہ ہی فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی گئی ہے ،فوجی عدالتوں میں دوسال کے دوران 274دہشتگردوں کے مقدمات کی سماعت انہیں سزائیں سنائی گئیں اور161دہشتگردوں کوسزائے موت جبکہ 113کوقیدکی سزاسنائی گئی ،سزایافتہ 12دہشتگردوں کوپھانسی دی جاچکی ہے ،اس وقت ان عدالتوں میں کوئی مقدمہ زیرسماعت نہیں

دوسری جانب چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ فوجی عدالتوں کی مد ت میں توسیع کی کوئی تجویززیرغورنہیں،
مقدمات انسدادہشتگردی عدالتوں میں چلیں گے ،

وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے کہاہے کہ فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی کوئی تجویززیرغورنہیں ہے میڈیارپورٹس کے مطابق وزیرداخلہ کایہ بیان ایسے وقت سامنے آیاہے جب دہشتگردی کے مقدمات کے جلد فیصلوں کیلئے بنائی گئی فوجی عدالتوں کی مدت ختم ہوگئی ہے ۔تفصیلات کے مطابق 7جنوری 2015ء کوملک بھرمیں دہشتگردی کے مقدمات کی جلدسماعت کیلئے فوجی عدالتیں 2سال کے لئے بنائی گئی تھیں ،
جن کی مدت جمعہ کی رات 12بجے ختم ہوچکی ہے ،اورعدالتوں میں توسیع کے لئے قومی اسمبلی کااجلاس نہیں بلایاگیا،نہ ہی فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی گئی ہے ،فوجی عدالتوں میں دوسال کے دوران 274دہشتگردوں کے مقدمات کی سماعت انہیں سزائیں سنائی گئیں اور161دہشتگردوں کوسزائے موت جبکہ 113کوقیدکی سزاسنائی گئی ،

سزایافتہ 12دہشتگردوں کوپھانسی دی جاچکی ہے ،اس وقت ان عدالتوں میں کوئی مقدمہ زیرسماعت نہیں،نجی ٹی وی رپورٹ کے مطابق وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایاہے کہ آج(ہفتے )سے 160کے قریب کیسزجوکہ فوجی عدالتوں میں چل رہے تھے انسداددہشتگرد ی عدالتوں کومنتقل کردیئے جائیں ،اٹارنی جنرل بھی پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ دہشتگردی کے حوالے سے کیسزکواب انسداددہشتگردی عدالتوں کومنتقل کیاجائیگاجیساکہ فوجی عدالتوں کی میعادختم ہورہی ہے ۔

تاہم فوجی عدالتوں کی دو سال کی مدت چھ جنوری 2017 کو پوری ہو چکی ہے جس میں‌اب تک کوئی توسیع نہیں کی گئی واضح یہ ہوتا ہے کہ یہ عدالتیں تحلیل ہو چکی ہیں