Cloud Front
American Senat

ایران جوہری معاہدہ فوری منسوخ کرنے سے بحران پیدا ہوسکتا ہے، امریکی سینیٹر

ایران جوہری سمجھوتے پردھیرج کا انداز اپنایا جائے: امریکی سینیٹر
ہمیں بنیادی طور پر اِس کے نفاذ پر زور دینا ہوگا، ایران جوہری معاہدہ فوری منسوخ کرنے سے بحران پیدا ہوسکتا ہے، بوب کورکر

واشنگٹن : امریکی سینیٹ کی کمیٹی برائے امورِ خارجہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ آنے والی ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے ایران کے جوہری معاہدے کو فوری طور پر منسوخ کرنے سے بحران پیدا ہوسکتا ہے، اور یہ کہ وہ نہیں سمجھتے کہ ایسا انداز اپنایا جائے گا۔اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے، سینیٹر بوب کورکر نے کہا ہے کہ میرے خیال میں اسے بالکل ہی ادھیڑ کر رکھ دینا مناسب نہ ہوگا۔ برعکس اِس کے، ہمیں بنیادی طور پر اِس کے نفاذ پر زور دینا ہوگا، توقع ہے کہ جولائی 2015ء4 میں اعلان کردہ اِس بین الاقوامی سمجھوتے پر سختی سے نفاذ ہوگا، جس پر ایران اپنی معیشت کے خلاف نقصان دہ تعزیرات سے بچنے کیعوض اپنے جوہری پروگرام میں کٹوتی لانے پر رضامند ہوا۔

ٹرمپ کئی بار اپنا یہ عہد دہرا چکے ہیں کہ اْن کے دور حکومت میں ایران کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کو ختم کر دیا جائے گا، جس معاملے پر تشویش بڑھی ہے کہ ایران غیر ملکی سرمایہ کاری کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں ناکام ہوگا، اور اْن کی معیشت کو دھچکہ لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ سمجھداری پر مبنی انداز یہ ہوگا کہ آپ اس پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں اور آپ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اِس کا ذمہ دار ٹھہرائیں اور سمجھوتا ٹوٹنے کی صورت میں اِس کا وہی ذمہ دار ہوگا جو اِسے توڑے گا ناکہ ایک صدر، جو عہدے پر فائز ہونے کے پہلے ہی روز ایسا عمل کرے کہ سمجھوتا ٹوٹ جائے،امریکی کانگریس کے ہر ایک ری پبلیکن رْکن نے، جن میں کورکر شامل ہیں، امریکہ، برطانیہ، روس، فرانس، چین، جرمنی اور ایران کی جانب سے جوہری معاہدے پر دستخط کے عمل کے خلاف اعتراض کیا تھا،ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے درجنوں ارکان نے بھی اس کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ لیکن، گذشتہ سال جنوری میں اس پر عمل درآمد روکنے کے مخالفین کے مقابلے میں حق میں حمایت زیادہ تھی تاہم صدارتی انتخاب کی مہم کے دوران، ٹرمپ نے سمجھوتے کو ختم کرنے کی دھمکی دی تھی