Cloud Front
Amna Mufti

اوم پوری کو مرے مہینے بیت گئے. . .آمنہ مفتی !

چھ جنوری کی صبح، الارم بجا،کھڑکی کے باہر ابھی صبح صادق کی روشنی بھی نہیں پھیلی تھی شاید ابر چھایا ہوا تھایا شاید الارم ہی نہ بجا تھا بلکہ کسی نے فون کیا تھا۔ ایسے ناوقت آنے والے فون اکثر کوئی منحوس خبر لے کے آتے ہیں۔ بس دم مار کے پڑی رہی۔ فون خاموش ہو گیا۔ پھر دو ایک پیغامات کی گھنٹی بجی۔ دس پانچ منٹ خاموشی رہی، گھنٹی پھر بجی۔
اب کے میں نے فون اٹھا کے دیکھا۔ لندن سے ایک دوست نے اوم پوری کی موت کی خبر دی تھی۔ میں نے کوئی جواب نہیں دیا، کیونکہ اوم پوری آج نہیں مرا تھا۔ پرانی خبر پہ کیا دکھی ہونا؟ اوم پوری کو مرے خاصے دن، بلکہ مہینے بیت گئے ہیں۔
جی ہاں! اوم پوری چند ماہ پہلے مر گیا تھا اور ہندو رواج کے مطابق اسے جلایا نہیں گیا بلکہ پارسی طریقے پہ گدھوں اور چیل کووں کے حوالے کر دیا گیا تھا۔شاید میں کچھ غلط کہہ گئی، اس کے مرنے کا انتظار بھی نہیں کیا گیا اور اسے چیل کووں کے حوالے کر دیا گیا۔

یہ چیل کوے، پاکستانی اور ہندوستانی دونوں علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔ ان کی اکثریت دو ٹانگوں پہ چلتی ہے اور یہ بے بال و پر ہی اڑتے ہیں۔ جن ہواؤں میں یہ اڑتے ہیں انھیں یہ اپنی آسانی کے لیے نفرت اور غصے سے اتنا مسموم کر لیتے ہیں کہ کوئی انسان جس میں اچھائی کی رمق بھی باقی ہو، ان ہواؤں میں سانس نہیں لے سکتا۔

خارجہ پالیسی کے دو اصول ہوتے ہیں، ایک جنگ اور دوسرا غیر ملکی امداد۔ ہندوستان، پاکستان میں ایک عجیب قسم کی سفارت کاری ہوتی ہے۔ فنکاروں اور کھلاڑیوں کے سر پہ کی گئی اس سفارت کاری کو کبھی، کرکٹ ڈپلو میسی کہا جاتا ہے کبھی امن کی آشا اور کبھی zeal for unity اس سفارت کاری میں بظاہر دونوں ملکوں کی حکومتیں فعال نہیں ہوتیں مگر کانی آنکھ سے دیکھتی جاتی ہیں کہ کہیں معاملہ سلجھ تو نہیں رہا؟ کہیں کوئی پرندہ اپنی چونچ میں پانی کی بوند لیے اس الاؤ کو بجھانے تو نہیں آگیا؟

اوڑی میں ہونے والے واقعے میں فوری طور پہ فنکاروں کو ملوث کرنے کے بعد سب ہی نے دیکھا اوم پوری نے کیا کہا اور اس کے بعد کیا ہوا۔ اگر اسی قسم کی بات پاکستان میں کوئی کرتا تو بھی اس کے ساتھ اس سے کم نہ کی جاتی، بلکہ مجھے پورا یقین ہے کہ اوم پوری کو جس نفاست سے مارا گیا، ہمارے ہاں اس نفاست سے کوئی کام نہ لیتا سیدھے سیدھے گولی مار دی جاتی جیسے سبین محمود کو مار دی گئی۔

Om Puri

اس معاملے میں ہندوستان ہم سے خاصا آگے نکل چکا ہے۔ آپ میں سے جو لوگ بھول چکے ہیں وہ ارنب گوسوامی کا اوم پوری کے ساتھ پروگرام ، یو ٹیوب پہ نکال کے دیکھ سکتے ہیں۔ اوم، مر چکے تھے۔ جس لمحے انھوں نے کہا ‘میں مجرم ہوں’ وہ مر چکے تھے۔ اس کے بعد ٹائی باندھے، چشمہ چمکائے، ناک کی چونچ تیز کیے ایک گدھ آتا ہے اور پہلی بوٹی نوچتا ہے، پھر باری باری اپنے قبیلے کے دوسرے پرندوں کو دعوت دیتا ہے۔

چند دن خوب دعوت اڑائی گئی۔ سرحدوں پہ تو خیر کسی نے کیا لڑنا تھا؟ فنکاروں کے سر پہ ایک لمبی جنگ لڑی گئی۔ دونوں ملکوں نے اپنی اپنی نفرت نکالی۔ کئی بنتی ہوئی فلمیں بند ہو گئیں، کچھ بنی بنائی فلموں میں مسائل پیدا ہوئے، اس نے اسے دھکیلا، اس نے اسے ریلا، خوب جنگ لڑی گئی۔

جنگ جنگ کھیل کے جب دونوں ملک تھک گئے اور موسم اتنا شدید ہو گیا کہ موسمِ بہار تک کے لیے ایک وقفہ لیا گیا اور موسم کی پہلی برفباری ہوئی تو گدھوں کے اس پرّے نے دیکھا، اوم پوری تو تب کا مرا پڑا تھا۔
چونکہ سردی غضب کی ہے اس لیے اور خوراک تو ملنی نہیں، یوں بھی گدھوں کا جب پیٹ بھرجائے تو وہ قے کر دیتے ہیں اور پھر اس قے کو کھاتے ہیں۔ اوم پوری کے مرنے کی خبر بھی ان شکم سیر گدھوں کا سیکنڈ کورس ہے۔ میں منتظر ہوں کہ اب وہ اسے کس کس انداز میں نوچیں گے۔

پاکستانی گدھوں (یہاں گاف مکسور نہیں ہے) سے گزارش ہے کہ اپنے ہندوستانی بھائیوں سے کچھ تہذیب سیکھ لیں اور اپنی اجتماعی سوچ کے خلاف کچھ بھی کہنے والے کو مارنے کے لیے، گولی، بم اور زہر وغیرہ کی بجائے یہ طریقہ آزمایا کریں۔ ہیں تو آپ دونوں ایک ہی تھالی کے چٹے بٹے، ہتھیار کے جواب میں ہتھیار تیار کرتے ہیں ، گدھوں کے جواب میں گدھ بھی تیار کر لیں۔ اوم شانتی اوم!