Cloud Front
Ali Raza Shaaf Column

کالم…سائبر کرائم ایکٹ نائلہ رند کے لئے تھوڑی تھا. . . !

نائلہ رند یونیورسٹی آف سندھ جامشورو کی طالبہ تھی جس نے ماروی ہاسٹل کے کمرہ نمبر 36 کے پنکھے سے لٹک کر بے دردی سے زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ یہ ہمارے لئے محض ایک خبر ہے جو اخباری تراشے سے نکل کر دوبارہ آپ الفاظ کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ پڑھ رہے ہیں نائلہ ماسٹرز کی ہونہار طالبہ تھی اسے اس عمر میں کوئی ایسی پریشانی بھی لاحق نہیں تھی کہ اتنی بے ثباتی سے دنیا سے رخصت ہوجائے. . آئیے اس واقعہ کے پس منظر میں چلتے ہیں عمومآ تاثر تو یہ پایاجاتا ہے کہ خودکشی میں مرنے والا ہی اپنی جان کے خاتمے کا ذمہ دار ہوتا ہے لیکن یہاں پر صورتحال مختلف ہے جی ہاں! نائلہ رند کی موت کے ذمہ داران میں سب سے پہلے وزیر مملکت برائے آئی ٹی اور ٹیلی کام انوشہ رحمان اور وہ ادارے جو سائبر کرائم ایکٹ کو لیکر سوائے چند سیاسی کاروائیوں کے کچھ نہ کر سکے. . .

نائلہ رند سائبر بلیک میلنگ کا شکار تھی اسے تین ماہ سے انیس خاص خیلی نامی شخص بلیک میل کر رہا تھا عورت تھی حیاء و اقدار کی پاسداری کرنے والی تھی کب تک اذیت سہتی گھٹ گھٹ کر بلیک میل ہوتی رہی، صبر کا پیمانہ لبریز ہوا، ضبط جواب دے گیااور نائلہ کیساتھ ساتھ سائبر کرائم ایکٹ جو پانچ ماہ پہلے ہی حکومتی ایوانوں سے دھوم دھام سے پاس ہوا تھا دونوں کا جنازہ نکل گیا. . .

Naila Rind

اگر بل پر عمل ہوتا تو نائلہ کے پاس بھی سہولت موجود ہوتی کہ تین ماہ تک بلیک میلنگ کی اذیت سے دوچار رہنے کی بجائے دوسرے دن ہی قلع قمع کردیتی ہے جس طریقے سے حکومت اپنے دیگر سیاسی منصوبوں پر اربوں خرچ کرکے ان کی تشہیر کرتی ہے اگر اس پر ان کی نسبت نصف بھی خرچ کیا ہوتا تو نوبت یہاں تک نہ پہنچ پاتی.

لیکن ایسا کیوں کیا جاتا سائبر کرائم ایکٹ تو عوام کی سہولت کے لئے بنایا ہی نہیں گیا، یہ نائلہ رند جیسی معاشرے کی غلاظت کی نذر ہونے والی بیٹیوں کے لئے تھوڑی تھا، یہ تو حکومت نے اپنی سہولت کے لئے بنایاتھا جس کے تحت اپنے سیاسی حریفوں کی زبان بند کی جا سکے پانچ ماہ میں اس ایکٹ کے تحت سوائے چند ایک کے جتنی بھی کاروائیاں کی گئیں ہیں وہ سب کسی نہ کسی سیاسی پارٹی کے ورکرز کے خلاف ہیں

علی رضا شاف(باغی ٹی وی )
ٹویٹر :
https://twitter.com/AliRazaShaaf