Cloud Front
Sultan Rahi

فن کے سلطان کو مداحوں سے بچھڑے 21 برس بیت گئے

ُُُٓپاکستان کے ہردلعزیز اداکار سلطان راہی کی 21ویں برسی آج منائی جا رہی ہے ،

لاہور(طارق مسعود سے) سلطان راہی معاشرے کے پسے ہوئے مجبور اور محکوم طبقے کا ہیرو تھا ، وہ جب سکرین پر ظالم کو للکارتا تو سینما ہال میں بیٹھے ہوئے فلم بینوں کی دبی ہوئی خواہشیں جاگ اٹھتیں ، وہ ظالم کا ہاتھ روکتا تو وہ خوشی سے دیوانے ہو جاتے ، وہ غاصب کو کیفر کردار تک پہنچاتا تو وہ اپنی نشستوں سے اٹھ کر داد کے ڈونگرے برساتے ،ان لوگوں کو سلطان راہی کے روپ میں ایک نجات دہندہ دکھائی دیتا جو ان کی گھٹی ہوئی فریادوں کی زبان بن کر ظلم کے خلاف وہ سب کچھ کر گز رتا جو کرنا چاہتے تھے لیکن بدی کی طاقتوں کے سامنے لاچار تھے

لطان کی جدوجہد کو سفربہت طو یل اور سنگین ہے ، راولپنڈی کے اس نوجوان کے تن میں فن کی آگ لگی تو وہ اس آگ کو بجھانے کے لئے شہر نگاراں لاہور آن پہنچا ، اس شہر میں اس کے جاننے والے اس کی ان تھک جدوجہد سے واقف ہیں ۔اس نے ایک عام ایکسٹرا کے طور پر فلم ٹریڈ کو جوائن کیا ، فاقے کئے ، ٹھوکریں کھائیں لیکن اس کی لگن سچی تھی اور یوں وہ چھوٹے چھوٹے کردار حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ، اس کے فلم ڈائریکٹر اقبال کشمیری اور اسلم ڈار اس کی صلاحیتوں کو جا چکے تھے ، انہوں نے اس کے فن کی پرکھ کے لئے اسے اپنی فلموں میں کام دیا، اقبال کشمیری نے اسے فلم شریف بدمعاش میں ایک مرکزی کردار دیا ، اسی دور میں ہدایتکار اسلم ڈار کی فلم بشیرا کا کردار اس کی پہچان بن گیا ، وہ فلمی دنیا کا مصروف ترین اداکار بن گیا

اسی دوران احمد ندیم قاسمی کے لکھے ہوئے افسانے گنڈاسہ کو ہدایتکار حسن عسکری نے فلم وحشی جٹ کے قالب میں ڈھالا تواس فلم میں سلطان راہی کے کردار مولا کی مقبولیت نے اسے کامیاب ترین اداکار بنا دیا ، اس کردار کو مد نظر رکھ کر ہدایتکار یونس ملک نے فلم مولا جٹ بنائی جس نے نہ صرف مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ ڈالے بلکہ پنجابی فلموں کو نیا ٹرینڈ بھی دے ڈالا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مولا جٹ نے جہاں سلطان راہی کو شہرت کی انتہا تک پہنچا دیا وہیں مصطفے قریشی کے ساتھ اس کی جوڑی بھی فلم بینوں میں مشہور ہو گئی ۔۔۔۔۔۔۔۔ سلطان راہی نے سینکڑوں فلموں میں کام کیا جن کی کامیابی کا تناسب بھی زبردست رہا ، اس کی کامیاب فلموں میں بشیرا ، بابل ، شریف بدمعاش ،وحشی جٹ ، مولا جٹ ، شیر خان ، چن وریام ، کالے چور ، بابل صدقے تیرے ،قسمت ،سخی بادشاہ اور کئی دوسری فلمیں شامل ہیں ۔سلطان راہی کا نام سب سے زیادہ ٹائیٹل کریکٹر ادا کرنے پرگنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں شامل کیا گیا انہوں نے کل ساڑھے آٹھ سو فلموں میں مختلف کردار ادا کئے جن میں 535 ٹائیٹلز کریکٹرز ادا کئے

سلطان راہی نے پنجابی فلموں کی تمام اداکاراوں کے مقابل ہیرو کے کردار ادا کئے ، اس کی قابل ذکر ہیروئینوں میں ممتاز ، آسیہ نجمہ ،انجمن ،گوری او ر صائمہ شامل ہیں ، ان اداکاراوں کے مقابل ہیرو کے کردار ادا کرتے ہوئے انہوں نے کئی کامیاب فلمیں دیں.

اکیس سال پہلے آج ہی کے دن کی ایک منحوس رات کو وہ راولپنڈی سے لاہور واپس آ رہا تھا کہ گوجرانوالہ بائی پاس پر ایک نامعلوم شخص کی گولی کا نشانہ بن گیا ، وہ سرد اور سنسان رات میں اپنے دوست اور منیجر حاجی احسن کے ساتھ سڑک کنارے گاڑی کا ٹائر پنکچر ہو جانے کی وجہ سے رکا ہوا تھا ۔

فلم کے پردے پر ظالموں کے خلاف ہزاروں گولیاں چلانے والا سلطان راہی محض ایک گولی سے زندگی کی بازی ہار گیا ،۔۔۔۔۔۔۔ وفات کے اکیس سال گزر جانے کے باوجود وہ اپنے چاہنے والوں کے دلوں میں زندہ ہے اور زندہ رہے گا ، اس کے کردار سالوں اس کی یادو ں کو تازہ رکھیں گے ۔