Cloud Front

کالا دھن سفید کرنے کی مہلت دینے کا امکان

کالا دھن سفید کرنے کی مہلت دینے کا امکان، حکومت نے ایمنسٹی پیکج پر کام شرو ع کر دیا
ایمنسٹی پیکج ایک فرد کو اجازت دے گا کہ وہ اس کی مدد سے اپنی آف شور اور آن شور کمپنیوں کو قانونی شکل دے سکے،آئندہ 3 ماہ میں وطن منتقل کیے جانے والے اثاثوں کو قانونی شکل دینے کیلئے 7 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اثاثوں کو وطن منتقل نہ کرنے کی صورت میں 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا،ٹیکس ماہرین

اسلام آباد: عالمی سطح پر ٹیکس چوری کے خلاف شروع ہونے والے کریک ڈاؤن کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ایک ایسے ایمنسٹی پیکج پر کام کررہی ہے جو ایک فرد کو اجازت دے گا کہ وہ اس کی مدد سے اپنی آف شور اور آن شور کمپنیوں کو قانونی شکل دے سکے۔مذکورہ ایمنسٹی اسکیم پاکستانیوں کی جانب سے اپنے آف شور فنڈز کو ملک میں واپس لانے کیلئے ایک آسان طریقے کے طور پر دیکھی جارہی ہے اور ایک ایسے وقت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے جب عالمی سطح پر ٹیکس چوروں کے خلاف دوہرے ٹیکس سے بچنے کے خلاف دو طرفہ انتظامات یا ایک کثیر جہتی ٹیکس کنونشن کے حوالے سے آپریشن متوقع ہے۔

آرگنائزیشن آف اکنامک کارپوریشن اینڈ ڈوپلمنٹ (او ای سی ڈی) کے 104 اراکین 2017 میں ایک خود ساختہ نظام کے تحت ایک ایسے ریکارڈ کا تبادلہ کرنے کا آغاز کردیں گے، جو عالمی سطح پر ٹیکس چوروں کے خلاف مربوط کریک ڈاؤن کا حصہ ہے تاکہ ٹیکس نادہندہ افراد کو بے نقاب کیا جاسکے۔ایک سینئر ٹیکس افسر نے بتایا کہ رواں سال میں پاکستانیوں کے فنڈز بیرون ملک موجود ہونے کے حوالے سے پاکستان کو معلومات ملنا شروع ہوجائیں گی اور جس کے جواب میں جولائی 2018 سے پاکستان کی جانب سے ایسے غیر ملکیوں کی معلومات، جن کا پیسہ یہاں کے بینکس میں موجود ہے، تبادلے کا آغاز ہوجائے گا۔اس عمل کا آغاز پاکستان میں بہت دیر سے ہورہا ہے کیونکہ پاکستان او ای سی ڈی میں شامل ہونے والا آخری رکن ملک ہے۔

غیر رہائشی افراد کی تفصیلات کے تبادلے کیلئے جولائی 2017 سے جون 2018 کی مدت مقرر کی گئی ہے۔اسی طرح مذکورہ مدت کے دوران 105 ملکوں میں موجود پاکستانیوں کے اثاثوں کی تفصیلات پاکستان کو فراہم کی جائیں گی۔اس بات اور دیگر دو طرفہ انتظامات کو مد نظر رکھتے ہوئے حکومت ایک ایسی ایمنسٹی اسکیم متعارف کرانے پر کام کررہی ہے جس کی مدد سے کم سے کم جرمانے کی ادائیگی سے لوگ بیرون ملک موجود اپنے کالے دھن کو سفید کرسکیں۔خیال رہے کہ اس حوالے سے وزیراعظم نواز شریف نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرس آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے 40 ویں ایکسپورٹ ایوارڈز تقریب کے دوران خطاب کرتے ہوئے اشارہ دیا تھا کہ آف شور اور آن شور کمپنیوں کے مالکان کے اثاثوں کو ٹیکس دہارے میں لانے کیلئے ایک ایمنسٹی اسکیم لائی جاسکتی ہے۔15 دسمبر 2016 کو منقعد ہونے والی تقریب میں وزیراعظم نے اس حوالے سے تجاویز بھی طلب کی تھیں۔جس کے بعد تجویز کی جانے والی دو ایمنسٹی اسکیموں کے مطابق جن کو اپنی دولت ظاہر کرنے کا کہا جائے گا انھیں 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔

ایف بی آر کی جانب سے 6 ماہ کیلئے متعارف کرائی جانے والی ایک اسکیم کو 2 ماہ کیلئے 3 حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔پہلے دو ماہ میں اپنی منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد ظاہر کرنے والے افراد کو ان کے اثاثوں کا 5 فیصد ادا کرنا ہوگا، جبکہ آئندہ 2 ماہ کیلئے 7 فیصد اور آخری دو ماہ میں 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔اس کے علاوہ اس حوالے سے وزیر خزانہ کی جانب سے بھی ایک اسکیم تجویز کی گئی ہے جس کی مدت 9 ماہ مقرر کی گئی ہے۔تجویز کی جانے والی اس اسکیم کے تحت اثاثوں کی وطن واپسی کی صورت میں یا بصورت دیگر مختلف ٹیکس ریٹ لاگو ہوں گے، تاہم اس طرح کی تفریق ایف بی آر کی جانب سے تجویز کی گئی ٹیکس اسکیم میں نہیں ہے۔درافٹ کی جانے والی اس اسکیم کے تحت اگر اثاثے پاکستان منتقل کیے جائیں گے تو پہلے 3 ماہ میں 5 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ اثاثوں کو وطن منتقل نہ کرنے کی صورت میں 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔

آئندہ 3 ماہ میں وطن منتقل کیے جانے والے اثاثوں کو قانونی شکل دینے کیلئے 7 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا، جبکہ اثاثوں کو وطن منتقل نہ کرنے کی صورت میں 10 فیصد ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔تجویز کردہ اسکیم کے مطابق آخری 3 ماہ میں وطن منتقل کیے جانے والے اثاثوں پر 10 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا جبکہ وہ اثاثے جو وطن منتقل نہیں کیے جائیں گے ان پر 20 فیصد ٹیکس لاگو ہوگا۔خیال رہے کہ انڈیا میں یکم جون 2016 کو آمدنی ظاہر کرنے کی ایک اسکیم متعارف کرائی گئی تھی۔

اس اسکیم کے تحت جن لوگوں نے ٹیکس چوری کی تھی انھیں ایک مہلت دی گئی تھی کہ وہ سزا سے بچنے کیلئے جرمانہ اور ٹیکس ادا کریں جو مجموعی طور پر ظاہر نہ کی گئی آمدنی کا 45 فیصد تھا۔اس اعلان کے بعد اکتوبر 2016 تک 64275 ہندوستانیوں نے تقریبا 97.5 ارب ڈالر کے اثاثے ظاہر کیے تھے جس سے 44.8 ارب ڈالر کا ریونیو حاصل ہونے کی اْمید پیدا ہوئی۔اسی طرح کی ایک اسکیم انڈونیشیا کی حکومت کی جانب سے بھی متعارف کرائی گئی تھی، جس کے پہلے مرحلے میں ستمبر 2016 تک 366757 افراد نے اپنے 277 ارب ڈالر کے اثاثے ظاہر کیے تھے جس سے حکومت کو 7.45 ارب ڈالر کی آمدنی حاصل ہوئی۔ٹیکس ماہر نسیم احمد نے بتایا کہ پاکستانیوں کیلئے اسکیم میں تجویز کی گئی ٹیکس کی شرح بہت کم ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس کو کم سے کم 25 فیصد لاگو کیا جانا چاہیے،

یہ وہ دولت ہے جو حکومت کو ٹیکس کی ادائیگی کے بغیر غیر قانونی طریقے سے منقتل کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو پہلے تو اس دولت کو صنعتوں میں سرمایہ کاری کیلئے واپس لانے کی کوشش کرنی چاہیے اور ایسا کرنے والے افراد کو دولت وطن واپس لانے کیلئے ترغیب دی جانی چاہیے۔تاہم چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ اور ٹیکس اصلاحات کمیشن کے سابق رکن اشفاق تولا کا کہنا تھا کہ اگر حکومت پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنیوں کو ٹیکس چھوٹ دے سکتی ہے تو یہ مراعات پاکستانیوں کیلئے کیوں نہیں دی جاسکتیں۔ان کا کہنا تھا کہ آف شور اور آن شور کمپنیاں کی مالیت ملک کے جی ڈی پی سے زیادہ ہے جو کہ 285 ارب ڈالر ہے جبکہ ‘گرے معیشت’ کی مالیت 300 ارب ڈالر ہے۔انھوں نے بتایا کہ ‘اگر مذکورہ اسکیم کے تحت اس کا آدھا بھی پاکستان آجائے تو یہ ملک کی معاشی ترقی میں شامل ہوسکتا ہے’۔لیکن ٹیکس ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ حکومت کیلئے ایک اچھا موقع ہے کہ وہ ٹیکس کے نظام میں بہتری کیلئے اقدامات کرسکتی ہے۔