Cloud Front
qatar prince hunting

وفاق نے دبئی کے شاہی خاندان کو تلور کے شکار کا لائسنس جاری کردیا

اسلام آباد: دبئی کے حکمران شیخ محمد بن راشد المکتوم، شاہی خاندان اور دیگر اعلی حکام سمیت 7 افراد کو وفاقی حکومت نے بین الاقوامی طور پر نایاب قرار دیئے گئے پرندے تلور کے شکار کے خصوصی لائسنس جاری کردیئے۔نجی ٹی وی کے مطابق دبئی کے نائب حکمران، ولی عہد ، ڈپٹی چیف پولیس، ایک اعلی فوجی عہدیدار، شاہی خاندان کے ایک فرد، سرکاری افسر اور ایک کاروباری شخصیت کو سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں شکار کے اجازت نامے جاری ہوئے۔نایاب پرندے تلور وسط ایشیائی خطے سے ہجرت کرکے دوسرے ممالک جاتے ہیں، موسم سرما میں سخت سردی کی وجہ سے وہ ہر سال پاکستان کے نسبتا گرم علاقوں کی طرف ہجرت کرتے ہیں۔ پاکستان نے قدرتی حیات کے تحفظ کے لیے کئی عالمی معاہدوں پر دستخط کر رکھے ہیں،

جن کے تحت پاکستان مختلف نایاب پرندوں سمیت مقامی جنگلی حیات کے تحفظ کے لیے اقدامات کرے گا۔ان معاہدوں کے قوانین کے تحت پاکستان میں تلور کے شکار پر بھی پابندی ہوگی اور پاکستان تلور کے شکار کی اجازت نہیں دے گا، مگر حکومت خلیجی ممالک کے عرب شہزادوں کو خصوصی طور پر اجازت نامے جاری کرتی ہے۔ اجازت ناموں کو محکمہ خارجہ کے ڈپٹی چیف پروٹوکول اقبال چیمہ نے دستخط کے بعد اسلام آباد میں موجود ان ممالک کے سفارت خانوں کو بھیجا، جب کہ اقبال چیمہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی میں وائلڈ لائیف کنزرویٹر کے عہدیداروں کو بھی ان اجازت ناموں کی کاپیاں بھجوائیں۔شکار کی سہولت فراہم کرنے کے لیے ان اجازت ناموں کو تینوں صوبائی چیف سیکریٹریز، رینجرز اور فرنٹیئر کانسٹیبلری (ایف سی)کے سربراہوں اور دیگر عہدیداروں کو بھی بھیجا گیا۔

اقبال چیمہ نے اسلام آباد میں موجود متحدہ عرب امارات کے سفارتخانے کو خط لکھ کر آگاہ کیا کہ حکومت پاکستان نے صوبائی حکام کو دبئی کے معززین کو سال 2016 اور 2017 کی سیزن کے لیے تلور کے شکار کے لیے سفارشات جاری کردی ہیں۔متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور دبئی کے حکمران کو پنجاب کے ضلع مظفرگڑھ میں شکار کا اجازت نامہ جاری کیا گیا، جب کہ دیگر اجازت نامے بلوچستان کے خضدار، نوکنڈی، لسبیلہ اور چاغی اضلاع کے لیے جاری کیے گئے ۔جاری کردہ ضابطہ اخلاق کے مطابق یہ افراد 31جنوری 2017 تک کسی بھی 10 دن میں 100 تلور شکار کرنے کے مجاز ہوں گے۔