Cloud Front
Senat

سینٹ میں سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کی سعودی عرب میں ملازمت پر وضاحت طلب !

سینٹ نے جنرل راحیل شریف کو مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بنائے جانے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی
میں اس حوالے سے ایوان کو آگاہ کروں گا،خواجہ آصف

اسلام آباد : ایوان بالا نے سابق آرمی جنرل راحیل شریف کو مسلم ممالک کے اتحاد کا سربراہ بنائے جانے پر حکومت سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ حکومت نے این او سی جاری کیا تو کیا وفاقی حکومت سے اجازت لی گئی ہے؟ چیئرمین سینیٹ حکومت پر برس پڑے۔ پیر کے روز سینیٹ کے اجلاس میں چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے وزیر دفاع خواجہ آصف سے وضاحت طلب کرتے ہوئے کہاکہ دوسنجیدہ موضوعات پر آپ نے ایوان کو آگاہ کرنا ہے اور اس سلسلے میں وضاحت دینی ہے کہ خبریں آرہی ہیں کہ سابق آرمی چیف کو 39 ممالک کے اتحاد کا سربراہ بنایا گیا ہے

اس حوالے سے حکومت ایوان کو آگاہ کرے۔ چیئرمین سینیٹ نے خواجہ آصف سے مخاطب ہوکر کہا کہ ایک ٹی وی چینل پر آپ نے کہا کہ اس تقرر کے حوالے سے سابق چیف آف آرمی سٹاف حکومت سے اجازت لے کر گئے ہیں اس تقرری کے قواعد و ضوابط کیا ہیں کس نے این او سی جاری کیا ہے۔ اگر ایک ریٹائرڈ آفیسر کوئی ملازمت اختیار کرتا ہے تو ا س کے لئے قواعد و ضوابط کے بارے مین ایوان کو بتائیں۔ اگر انہوں نے دوسری ملازمت شروع کردی ہے تو حکومت سے اجازت لی گئی ہے کن رولز کے تحت این او سی جاری ہوا ہے کیا وہ وفاقی حکومت کی مرضی سے اسلامی اتحاد کے سربراہ بنے ہیں کیا عہدہ قبول کرنے سے قبل انہوں نے وفاق سے منظوری لی ہے۔ انہوں نے مشیر خارجہ سے بھی کہا کہ وہ بتائیں اس حوالے سے ہماری پالیسی کیا ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ میں اس حوالے سے ایوان کو آگاہ کروں گا۔