Cloud Front
Ibne Insha

معروف شاعراور افسانہ نگار ابن انشاء کی 39ویں برسی آ ج منائی جائے گی

اسلا م آ با د: معروف شاعراور افسانہ نگار ابن انشاء کو اس دنیا سے رخصت ہوئے انتالیس برس بیت گئے ہیں ان کی39ویں برسی آ ج بدھ کو منائی جائے گی اس روز ملک بھر کے ادبی حلقوں میں مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا جس میں مختلف ادبی شخصیات اور مقررین خطاب کرتے ہوئے ابن انشاء کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش کریں گے ابن انشاء گیارہ جنوری1978ء کو پچپن برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔ابن انشاء27جون 1927ء کو بھارت کے صوبہ پنجاب میں پیدا ہوئے ان کا اصل نام شیر محمد خاں تھا۔

ابن انشاء کی پہچان مزاح نگار اور سفر نامہ نگارکی حیثیت سے ہے لیکن وہ ایک منفرد شاعر بھی تھے وہ پاکستان کے متعدد قومی روزناموں میں کالم نگاری بھی کیا کرتے تھے جبکہ انہوں نے ریڈیو پاکستان اوروزارت ثقافت میں بھی کام کیا۔ابن انشاء نے اقوام متحدہ کے مشیر کی حیثیت سے متعدد ممالک کا دورہ کیا۔انہوں نے متعدد سفر نامے بھی تحریر کیے جو کہ بے پناہ مقبول ہوئے ان میں ’’ چلتے ہو تو چین کو چلیے ‘ ‘ ، ’’ ابن بطوطہ کے تعاقب میں ‘‘ ، ’’ آوارہ گرد کی ڈائری ‘‘ اور ’’ دنیا گول ہے ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ابن انشاء کی کتب ’’ خمار گندم ‘‘ اور ’’ اردو کی آخری کتاب ‘‘ ان کے کالموں پر مشتمل ہے جو کہ بے پناہ مقبول ہوئیں وہ غزل گو شاعر بھی تھے ان کی مقبول عام غزل ’’ انشاء جی اٹھو اب کوچ کرو ‘‘ ابھی تک ریڈیو سے سنائی دیتی ہے۔اردو ادب کے یہ گراں قدر سرمایہ ابن انشاء 11جنوری 1978ء کو علالت کے باعث لندن میں انتقال کر گئے تھے وہ کراچی کے پاپوش نگر قبرستان میں آسودہ خاک ہیں۔