Cloud Front
MIDEAST_IRAN

ایرانی پارلیمنٹ نے دفاعی اخراجات میں اضافے کی منظو ری دیدی

ایرانی پارلیمنٹ نے دفاعی اخراجات میں اضافے اورمیزائل پروگرام کو اپ گریڈ کرنے کی منظو ری دیدی
جنگی مقاصد کے لیے ڈرون کی تیاری کے لیے پیش کردہ بل بھی منظور

تہران: ایران میں مجلس شوریٰ [پارلیمنٹ] نے فوجی اخراجات میں 5 فی صد اضافے کے ساتھ ساتھ متنازع میزائل پروگرامات کو اپ گریڈ کرنے کے ایک نئے منصوبے کی منظوری دی ہے۔ ایران کے دفاعی پروگرام میں تہران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل پروگرام بھی شامل ہیں جنہیں امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہر صورت میں روکنے کا تہیا کر رکھا ہے۔غیرملکی خبر رساں اداروں کے مطابق سال 2015ء4 اور 2016ء4 کے بجٹ میں ایران کی باضابطہ فوج، پاسداران انقلاب اور وزارت دفاع کے بجٹ میں 2 فی صد اضافہ کیا گیا تھا۔مبصرین کا کہنا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران مغرب پر تنقید، دفاعی بجٹ میں اضافے اور میزائل پروگرام کو اپ گریڈ کرکے ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تصادم کی راہ پر چل رہا ہے، کیونکہ تہران نے حالیہ مہینوں کے درمیان بیلسٹک میزائلوں کے جو تجربات کیے ہیں وہ اقوام متحدہ کی عالمی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی ہیں

اقوام متحدہ نے گذشتہ برس منظور کردہ قرارداد میں ایران پر اپنی جوہری سرگرمیوں کو محدود کرنے پر زور دیا تھا ساتھ ایران سے کہا گیا تھا کہ وہ جوہری وار ہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل بیلسٹک میزائلوں کے تجربات روک دے جب کہ ایران کا دعویٰ ہے کہ وہ جوہری وار ہیڈ لے جانے والے بیلسٹک میزائل ڈیزائن نہیں کررہا ہے۔ایرانی خبر رساں ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق 173 ارکان پارلیمنٹ نے ایران کے پانچویں ترقیاتی بجت میں تہران حکومت سے دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے دفاعی بجٹ میں پانچ فی صد اضافے کا مطالبہ کیا ہے۔

دفاعی بجٹ میں اضافے کا مطالبہ کرنے والے ارکان پارلیمان کا کہنا ہے کہ ایران کو مضبوط علاقائی قوت بنانے اور قومی سلامتی کے لیے بجٹ میں اضافہ ناگزیر ہے۔ایران کے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کو اپ گریڈ کرنے، سائبر جنگ کی صلاحیت بڑھانے اور بغیر پائلٹ جنگی مقاصد کے لیے ڈرون کی تیاری کے لیے پیش کردہ بل کی مخالفت صرف 10 ارکان کی طرف سے کی گئی۔امریکی صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ایران جن بیلسٹک میزائلوں کے تجربات کررہا ہے وہ جوہری معاہدے کی خلاف ورزی نہیں لیکن امریکا کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران سے سمجھوتے کو بدترین قرار دے کر اس کی سخت مخالفت کرچکے ہیں۔