Cloud Front

فوجی عدالتوں میں توسیع : جے یوآئی (ف) اور پیپلز پارٹی کی مخالفت

اسلام آباد: اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے حوالے سے آئیم میں ترمیم کا معاملہ زیر بحث رہا، عدالتوں میں توسیع کی مخالفت کرنے والی پارٹیوں میں پاکستان پیپلزپارٹی اور جے یو آئی (ف) شامل ہیں

فوجی عدالتیں توسیع معاملہ،پارلیمانی جماعتوں کا اجلاس بے نتیجہ ختم،اپوزیشن نے حکومت سے ملٹری کورٹس پر بریفنگ مانگ لی
سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی ،پیپلز پارٹی ،تحریک انصاف ،جے یو آئی (ف) ،جماعت اسلامی نے شرکت کی
اجلاس میں آئینی ترمیم، نیب آرڈیننس میں ترمیم یا نئے نیب قانون زیر غور آئے، وزیر قانون زاہد حامد کی تفصیلی بریفنگ بریفنگ
پیپلز پارٹی اور جے یو آئی (ف) نے ملٹری کورٹس کی مخالفت کی ،ذرائع
فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع پر تمام اپوزیشن جماعتوں سے مشاورت اور اتفاق رائے چاہتے ہیں، سپیکر ایاز صادق
روزاول سے مؤقف ہے ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت نہیں،خورشید شاہ

فوجی عدالتوں کے قیام پر پرانے مؤقف پرقائم ہیں ،توسیع میں کسی صورت حمایت نہیں کرینگے،اکرم درانی
حکومت پہلے اپنے ارکان کو فوجی عدالتوں کی توسیع پرمتفق کرے، حکومتی مؤقف سننے کے بعد اپنی رائے دیں گے،شاہ محمود قریشی
حکومت ہمارا کندھا استعمال کرکے فوجی عدالتوں کو مسترد کرنا چاہتی ہے ،نوید قمر

اسلام آباد: فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے حوالے سے سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی سربراہی میں ہونے والا پارلیمانی اجلاس بے نتیجہ ختم ہوگیا، اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے ملٹری کورٹس پر بریفنگ مانگ لی،اجلاس 17 جنوری کو دوبار ہ ہوگا۔تفصیلات کے مطابق سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں پارلیمانی جماعتوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے دوران جے یوآئی (ف)، پیپلز پارٹی نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کی مخالفت کردی ہے۔

اجلاس میں فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع کے حوالے سے آئینی ترمیم، نیب آرڈیننس میں ترمیم یا نئے نیب قانون پرتبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر قانون زاہد حامد نے فوجی عدالتوں کی مدت میں توسیع سے متعلق بریفنگ دی۔سپیکرقومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ فوجی عدالتوں کے قیام کی توسیع کے معاملے پر تمام اپوزیشن جماعتوں کو ساتھ لے کرمشترکہ مشاورت اوراتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے۔اجلاس میں پیپلزپارٹی نے ملٹری کورٹس کی توسیع کے فیصلے کی مخالفت کردی اورنیب ترمیمی آرڈیننس کے اجرا پربھی احتجاج کیا جبکہ دیگراپوزیشن جماعتوں نے بھی نیب ترمیمی آرڈیننس پراظہاربرہمی کیا۔اپوزیشن جماعتوں نے حکومت سے ملٹری کورٹس کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ مانگ لی۔حکومتی اتحادی جماعت جمعیت علمائے اسلام (ف) کے رہنما اکرم درانی کا کہنا تھا کہ فوجی عدالتوں کے حوالے سے پرانے مؤقف پرقائم ہیں ہم فوجی عدالتوں کی حمایت نہیں کریں گے۔

تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کے حوالے سے حکومت کے اپنے ارکان کے موقف میں تضاد اور ہچکچاہٹ ہے، کچھ ارکان فوجی عدالتوں کی توسیع کی مخالفت اورکچھ حمایت کررہے ہیں، پنجاب کے وزیرقانون رانا ثنااللہ بھی پہلے فوجی عدالتوں کے سخت مخالف تھے لیکن اب ان کے لہجے میں بھی تبدیلی نظر آرہی ہے جبکہ وزیرداخلہ چوہدری نثارنے بھی کہا تھا کہ فوجی عدالتوں کے کیسزانسداد دہشت گردی عدالتوں میں منتقل ہوجائیں گے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ حکومت پہلے اپنے ارکان کو فوجی عدالتوں کی توسیع پرمتفق کرے، پھر اپنا مؤقف دے ہم حکومت کا مؤقف سننے کے بعد اپنی رائے دیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں فوجی عدالتوں سے متعلق متفقہ لائحہ عمل اپنائیں اور اسی حوالے سے پیپلزپارٹی، جماعت اسلامی اور ق لیگ سے رابطہ کیا گیا ایم کیوایم سے ابھی بات نہیں ہوئی۔ پیپلزپارٹی کے نوید قمرکا کہنا تھا کہ پہلے بھی فوجی عدالتوں کی مجبوری میں حمایت کی تھی،اس بارنہیں کریں گے۔

اس سے قبل قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کی زیرصدارت اپوزیشن جماعتوں کا اجلاس ہوا۔ اجلاس میں پیپلز پارٹی کے نوید قمر، تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی، شریں مزاری اور جماعت اسلامی کے صاحبزاہ طارق اللہ نے شرکت کی۔ اجلاس میں فوجی عدالتوں میں توسیع کے لئے اپوزیشن کا متفقہ موقف طے کرنے کے لئے مشاورت کی گئی۔اس موقع پرخورشید شاہ کا کہنا تھا کہ روزاول سے ہمارا مؤقف ہے کہ ملک میں فوجی عدالتوں کے قیام کی ضرورت نہیں لیکن حکومت کا مقصد ہے کہ ادارے بناتے جاؤ اورکرپشن بڑھاتے جاؤ، اپوزیشن نے اپنی حکمت عملی تیارکرلی ہے تاہم حکومت کا مؤقف بھی سنا جائے گا اور اگر فوجی عدالتوں کے قیام میں توسیع کی بات ہوئی تو ہم اس کی بھرپور مخالت کریں گے، فوجی عدالتوں کے ساتھ باقی 19 نکات پر بھی عمل ہونا تھا ، حکومت نے نیشنل ایکشن پلان پر عمل نہیں کیا ، لگتا ہے حکومت ہمارا کندھا استعمال کرکے فوجی عدالتوں کو مسترد کرنا چاہتی ہے ۔