Cloud Front
imran khan

3 ماہ نیب مل جائے لٹیروں کو اُلٹا لٹکا دوں گا ،عمران خان

نیب آرڈیننس کی نہیں وزیر اعظم کے تبدیل ہونے کی ضرورت ہے ،ملک میں صادق اور آمین ڈھونڈنا مشکل ہے، نواز شریف کے اکاؤنٹس میں اضافہ نہیں ہو رہا ، ان کی دم پر پاؤں رکھا ہے اس لئے میرے خلاف تقریریں کررہے ہیں،چیئرمین تحریک انصاف
سنا ہے نیا قطری خط آرہا ہے ،عدالت سے بھاگنے کی کوشش کی جارہی ہے ،پاناما حکمرانوں کے گلے کا طوق بنے گا،تماشا یہ ہے ان کے بچے نوعمری میں کھرب پتی بن گئے اور نواز شریف کو پتہ نہیں، سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو

اسلام آباد: تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ ہزاروں کی چوری والے جیلوں میں جبکہ اربوں کی چوری والے باہر ہیں،3 ماہ کے لئے نیب میرے حوالے کی جائے سب بڑے بڑے لٹیروں کو اُلٹا لٹکادوں گا ،نیب آرڈیننس نہیں بلکہ وزیر اعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ،ملک میں صادق اور آمین ڈھونڈنا مشکل ہے ،سنا ہے نیا قطری خط آرہا ہے ،حکمران پاناما کیس میں پھنس چکے ہیں ۔سپریم کورٹ کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا کہ وزیراعظم نے خود کہا کہ ان کے پاس تمام ثبوت ہیں لیکن عدالت میں معلوم ہوا کہ ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں لہذا وزیراعظم عدالت سے بھاگ رہے ہیں،

جمہوریت میں وزیراعظم جوابدہ ہوتا ہے آمر جوابدہ نہیں ہوتا لہذا وزیراعظم الزامات کا جواب دے رہے ہیں احسان نہیں کررہے،انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن)والے عدالت سے ڈرے ہوئے ہیں اور آج یہ لوگ عدالت سے بھاگ رہے ہیں، وزیراعظم کے وکیل بہانے ڈھونڈ رہے ہیں جبکہ ان کے دلائل سے لگتا ہے کہ ملک میں صادق و امین ڈھونڈنا مشکل ہے۔عمران خان نے کہا کہ شریف فیملی نے کبھی نہیں بتایا کہ مے فئیر فلیٹس ان کے ہیں، مریم نواز کے بینیفشری مالک ہونے کی کوئی بات ہی نہیں کر رہا لیکن آئی سی آئی جے کہہ چکی ہے کہ مریم نواز بینیفشری مالک ہیں جبکہ وزیراعظم کو معلوم ہی نہیں کہ بچے ارب پتی بن گئے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی تک کوئی منی ٹریل سامنے نہیں آئی لیکن سب جگہ موجود ہے کہ انہوں نے منی لانڈرنگ کی ہے اور 4 جگہ واضح ہے تاہم ایسا لگتا ہے کہ وزیراعظم کی چوری کے لیے 4 عینی شاہد گواہ ہونے ضروری ہیں جبکہ میں نے سنا ہے نیا قطری خط آرہا ہے،آگے چل کر قطری خط اور التوفیق پر بھی بات ہوگی،انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کے لیے یہ فیصلہ کن وقت ہے،

پاناما پیپرز میں جس جس کا نام آیا ان سب جواب دیا، امریکی صدر کلنٹن جھوٹ بولنے پر مستعفی ہوئے لیکن وزیراعظم تکنیکی باتوں کے پیچھے چھپ رہے ہیں، ان کی بد قسمتی ہے کہ یہ پاناما پیپرز میں پھنس گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ نیب خود کہتی ہے کہ روزانہ ملک میں 12 ارب روپے کی کرپشن ہوتی ہے لیکن ہزاروں کی چوری والے جیلوں میں پڑے ہیں اور اربوں کی چوری والے باہر ہیں،عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ نواز شریف کے گلے کا طوق بنے گا ۔ جھوٹ بول کر صادق اور امین نہیں رہے ، ادارے ڈاکوؤں پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں نیب حوالہ ہوئی تو سب کو لٹکا دیں گے نیب آرڈیننس نہیں وزیر اعظم تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔

عمران خان نے کہا کہ پانامہ لیکس کے مقدمے میں وزیر اعظم اور اس کے خاندان کی بدعنوانیوں کے سارے دستاویزات ہمارے پاس موجود ہیں اور وقتاً فوقتاً ثبوت عدالت میں جمع کرائے ہیں لیکن نواز شریف کو بچانے والے کارندے تاخیری اور غیر متعلقہ معاملات کو جواز بنا کر عدالت سے فرار اختیار کر رہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں نواز شریف نے ایوان میں عوام کے منتخب نمائندوں اور عوام سمیت عدلیہ کو جھوٹ بول کر اقتدار میں رہنے کا اخلاقی و قانونی جواز کھو چکے ہیں ، قوم کا حق ہے کہ اپنے سربراہوں کی شاہ خرچیوں اور لوٹ کھسوٹ پر نااہل لوگوں کو اقتدار سے ہٹائے لیکن نواز شریف خود کو ’’امیرالمومنین سمجھتے ہیں اور قوم کا پیسہ لوٹ کر بھی اقتدار پر براجمان رہنا چاہتے ہیں ۔

تماشا یہ ہے کہ ان کے بچے نوعمری میں کھرب پتی بنے لیکن ان کو معلوم تک نہیں کہ یہ سب کیسے ہوا ،چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ باہر کے ترقی یافتہ ممالک میں معمولی جھوٹ بولنے پر سربراہان مملکت اور عوام کے منتخب نمائندے پکڑ لئے جاتے ہیں لیکن یہاں وزیر اعظم نے لوٹ ہوئی کھربوں کی دولت پر منتخب ایوان سے جھوٹ بولا لیکن جواب دینا نہیں چاہتے اور اقتدار پر براجمان ہیں امریکہ کے صدر نکسن سمیت کئی مثالیں موجود ہیں جو معمولی جھوٹ بولنے پر نااہل ہوئے اور ان کو اقتدار سے ہٹنا پڑا ۔وزیر اعظم پر الزامات لگے ہیں اور ان کی نوعیت سنگین ہے کیونکہ چار جگہ منی ٹریل بالکل واضح ہے وہ عدالت میں ثابت کر دیں کہ یہ ساری جائیداد اور تمام مال ان کی جائز ملکیت ہیں اور اس کے حوالے سے تمام مصدقہ ثبوت بھی فراہم کر دیں تو مجھ سمیت ساری قوم کی جان فلاحی ہو جائے گی اور دودھ کا دودھ پانی کا پانی بھی ہو جائے گا ۔

عمران خان نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ نواز شریف نے لوٹ مار کی ہے لیکن نیب سمیت قومی ادارے وزیر اعظم پر ہاتھ ڈالنے سے کتراتے ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ادارے نااہل اور متقدر حلقوں کے چاپلوس اور خادم بنے ہوئے ہیں ۔نیب نے خود کہا کہ اربوں کی کرپشن ہوتی ہے جس میں کمی کی بجائے مسلسل اضافہ ہو رہا ہے تو یہ نیب کی ناکامی ہے نیب کا اختیار مجھے ملا تو تین ماہ میں لٹیروں کو پکڑ کر الٹا لٹکا دوں گا ۔ صحافی کے ایک سوال کے جواب میں عمران خان نے کہا کہ نیب بڑے چوروں کو نہیں بلکہ چھوٹے موٹے چوروں کو پکڑ رہی ہے لہذا نیب آرڈیننس میں ترمیم یا تبدیلی کی نہیں بلکہ وزیر اعظم کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پورا نظام درست سمت پر گامزن ہو جائے ۔ وزیر اعظم سے عمران خان کے خلاف تقرریوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ دراصل نواز شریف کی دم پر پاؤں رکھا ہے ان کے بینک اکاؤنٹس میں اضافہ نہیں ہو رہا یہی وجہ ہے کہ وہ مشکل میں ہیں اور میرے خلاف تقرریں کی جارہی ہیں ۔