Cloud Front
Panama Papers

پاناما کیس :سپریم کورٹ آرٹیکل62 ایف کوڈراؤنا خواب کہہ چکی،وکیل وزیر اعظم

عدالتی فیصلے میں صادق اور آمین کی آئینی شق کو ابہام کا پکوان قرار دے چکی اور کہا گیا کہ اس آئینی معیار پر صرف پیغمبر ہی پورا اتر سکتے ہیں، وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلیئریشن ضروری ہے
ماضی میں بھی وزیراعظم پر قومی اسمبلی کے خطاب میں سچ نہ بولنے کا الزام تھا،سپیکر قومی اسمبلی نے ریفرنس مسترد اور لاہور ہائی کورٹ نے فیصلے کو درست قرار دیا تھا،مخدوم علی خان
دوران کیس جہانگیر ترین،صدیق بلوچ اور پرویز مشرف کیس کا تذکرہ،عدالت نے مزید سماعت 16 جنوری تک ملتوی

اسلام آباد: وزیر اعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کے تحت وزیراعظم کو ناہل قرار دینے سے متعلق دلائل دیتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ آرٹیکل 62 ایک ایف کو ڈراؤنا خواب قرار دے چکی ہے، یہ فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تحریر کیا تھا، اس فیصلے میں سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ نے یہ بھی قرار دیاتھا کہ صادق اور امین کی آئینی شق ابہام کا پکوان ہے ، سپریم کورٹ قراردے چکی ہے کہ کسی بیان کی بنیاد پر نا اہل قرار دینے کے لیے پس منظر اور پیش منظر دیکھنا لازم ہے۔مخدوم علی خان نے کہا کہ آئین کے ایک ایسے آرٹیکل کو جسے عدالت ڈراؤنا خواب قرار دے چکی ہے کیا اس کی بنیاد پر منتخب وزیر اعظم کونا اہل قرار دیا جاسکتا ہے؟

مخدوم علی خان نے کہا کہ وزیر اعظم کو نا اہل قرار دینے کے لئے آرٹیکل 62 کے تحت نا اہلی سے پہلے اس کا عدالتی حکم ضروری ہوتا ہے، ان کا کہنا تھا کہ ڈیکلیئریشن یا عدالتی فیصلہ اور نا اہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔جمعہ کے روز پاناما لیکس کیس میں سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی لارجر بینچ نے سماعت کی۔سماعت کے آغاز پر وزیراعظم کے وکیل مخدوم علی خان نے آئین کے آرٹیکل 62 پر عدالتی فیصلوں کی روشنی میں دلائل دیئے ، انہوں نے کہا سپریم کورٹ آئین کے آرٹیکل باسٹھ ایک ایف کو ڈراؤنا خواب اور صادق و امین کی آئینی شق کو ابہام کا پکوان قرار دے چکی ہے ، کیا ایسے آرٹیکل پر منتخب وزیر اعظم کو نااہل قرار دیا جا سکتا ہے ، کیا کسی ایسے آرٹیکل کی روشنی میں منتخب وزیر اعظم کو نا اہل قرار دیا جا سکتا ہے ،

عدالتی فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ، اس آئینی معیار پر صرف پیغمبر ہی پورا اتر سکتے ہیں،مخدوم علی خان نے کہا کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہو سکتی۔ وزیراعظم کے خلاف آرٹیکل 62 کے تحت نااہلی کے لیے عدالتی ڈیکلیئریشن ضروری ہے،آرٹیکل 62، 63 کے تحت نا اہلی کے لیے کسی حوالے سے سزا یافتہ ہونا ضروری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ تعلیمی قابلیت کے جعلی ہونے اور اثاثے چھپانے کے معاملے پر نااہلی آرٹیکل 62 کے تحت ہو سکتی ہے تاہم نااہلی کا معاملہ کاغذات نامزدگی کے وقت اٹھایا جاسکتا ہے اور الیکشن کے بعد نااہلی کا معیار کم نہیں ہوسکتا،مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ الیکشن کے بعد صرف کووارنٹو کی درخواست دائر ہو سکتی ہے،

جس پر جسٹس آصف کھوسہ کا کہنا تھا کہ آپ جن مقدمات کا حوالہ دے رہے ہیں وہ الیکشن کمیشن کے خلاف تھے ٹریبونل کے خلاف نہیں جس پر مخدوم علی خان نے جہانگیر ترین کیس کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ صدیق بلوچ کی نااہلی کا فیصلہ ٹریبونل سطح پر ہوا تھا مگر سپریم کورٹ نے ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ اراکین اسمبلی کی نااہلی کے لیے ٹھوس شواہد کی ضرورت ہوتی ہے اور ٹھوس شواہد کے بغیر نااہلی نہیں ہو سکتی۔مشرف کی نااہلی کا حوالہ دیتے ہوئے مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ ان کا فیصلہ عدالتی فیصلوں کی روشنی میں ہوا اور آرٹیکل 62 ون ایف کے اطلاق کے بھی ضابطے موجود ہیں،جس پر جسٹس اعجاز افضل کا کہنا تھا کہ مشرف کیس میں ڈیکلیئریشن سپریم کورٹ نے دیا تھا،اس فیصلے میں مشرف کی جانب سے حلف کی خلاف ورزی قرار دی گئی تھی،جس پر مخدوم علی خان نے کہا کہ نااہلی کے لیے پہلے ڈیکلیئریشن ہونا ضروری ہے،

ڈیکلیئریشن اور نااہلی ایک ساتھ نہیں ہو سکتے۔وکیل مخدوم علی خان کا کہنا تھا کہ غلط بیانی اور جھوٹ کے تعین کے لیے بھی ضابطہ موجود ہے، وزیراعظم کے قومی اسمبلی سے خطاب کو ماضی میں بھی چیلنج کیا گیا،جس پر جسٹس شیخ عظمت نے استفسار کیا کہ یہ شاید وہی خطاب تھا جو وزیراعظم نے دھرنے کے دوران کیا تھا،مخدوم علی خان نے وضاحت دیتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ اس وقت بھی وزیراعظم پر سچ نہ بولنے کا الزام عائد کیا گیا تھا اور اسپیکر نے ڈیکلیئریشن کے بغیر ریفرنس کو مسترد کر دیا تھا جبکہ لاہور ہائیکورٹ نے سپیکر کے فیصلے کو قانون کے مطابق قرار دیا تھا اور سپریم کورٹ نے بھی لاہور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔مخدوم علی خان کے ان دلائل کے بعد سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کو پیر16 جنوری تک ملتوی کردی، آئندہ سماعت پربھی مخدوم علی خان اپنے دلائل کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔