Cloud Front
Dr Zakir Naik

ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی تنظیم پرعائد پابندی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا

بین الاقوامی اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اپنی تنظیم پر عائد پابندی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کردیا
عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مودی سرکار سے 17جنوری کو کیس کی تمام تفصیلات طلب کر لیں
پابندی کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا،حکومت نے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت پابندی عائد کر کے ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے، اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن

نئی دہلی: مودی حکومت کی جانب سے بین الاقوامی اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تنظیم ’’اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ‘‘ پر عائد پابندی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ،عدالت نے فریقین کے دلائل سننے کے بعد مودی سرکار سے 17جنوری کو کیس کی تمام تفصیلات طلب کر لیں۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے مشہور بین الاقوامی اسلامی سکالر ڈاکٹر ذاکر نائیک کی تنظیم ’’اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن ‘‘ اور پیس ٹی وی پر گذشتہ سال نومبر میں دہشت گردی کے بے بنیاد الزامات کے تحت پابندی عائد کر دی تھی جبکہ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے اداروں پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے کئی افراد کو گرفتار بھی کیا گیا تھا۔ اسلامک ریسرچ فاونڈیشن نے مودی حکومت کی جانب سے عائد کی گئی پابندی کو دہلی ہائی کورٹ میں چیلنج کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ یواے پی اے‘‘ کے تحت آئی آر ایف پر پابندی کا کوئی جواز ہی نہیں بنتا،حکومت نے بے بنیاد اور من گھڑت الزامات کے تحت پابندی عائد کر کے ملکی قوانین کی صریح خلاف ورزی کی ہے ،

آئی آر ایف کے مطابق اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پر پابندی کے نوٹیفکیشن میں کوئی وجہہ نہیں بتائی گئی کہ سپریم کورٹ کے کن قوانین کے مطابق اس قسم کے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں؟۔دوسری طرف حکومتی وکیل اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل( اے ایس جی) سنجے جین نے وزرات داخلہ کی طرف سے جاری کئے گئے نوٹیفکیشن کو عدالت میں پڑھ کر سنایا ، جس میں لکھا تھا کہ آئی آر ایف پر پابندی عائد کرنے کے لئے فوری اقدام کی ضرورت تھی ، کیونکہ آئی آرایف کے صدر ڈاکٹر ذاکر نائیک کے مبینہ بیانات او ر تقاریرنوجوانوں کو بنیاد پرست بنارہے ہیں اور وہ دہشت گرد گروپس جیسے’’ آئی ایس آئی ایس ‘‘میں شمولیت اختیار کرنے کی جانب راغب ہورہے ہیں ، جو ایک بین الاقوامی مسئلہ ہے۔دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس سنجیو سہا دیو نے فریقین دلائل سننے کے بعد حکومت سے کہاکہ 17جنوری تک کیس کے متعلق تمام تفصیلات عدالت میں پیش کی جائیں ، جس کے بعد عدالت یہ فیصلہ کرے گی کے آئی آر ایف پر فوری امتنا ع صحیح ہے یا نہیں؟۔