Cloud Front
Mahira Khan

شیوسینا کی ماہرہ کی فلم “رئیس” کی اسکریننگ پرتقسیم کارں کو دھمکی

“رئیس”میں پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان کی شمولیت کے خلاف انتہا پسند ہندو تنظمیں احتجاج کریں گی ۔فلم 25جنوری کو نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے

لاہور (طارق مسعود سے )بالی وڈ کے ہدایتکار راہول ڈھولکیا کی فلم ’’رئیس‘‘ 25جنوری کو بھارت کے علاوہ پوری دنیا میں نمائش کے لئے پیش کر دی جائے گی، اس فلم کی کاسٹ میں شامل پاکستانی اداکارہ ماہرہ خان بالی وڈ کے کنگ خان کے مقابل ہیروئین کا کردار ادا کر رہی ہیں ، ’’رئیس‘‘ کی کاسٹ میں پاکستانی اداکارہ کی شمولیت کے باعث بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظمیں شیو سینا اور ایم این ایس نے کئی ماہ سے احتجاج کا سلسلہ شرو؂ع کر رکھاہے ، چند ماہ پہلے پاک بھارت سرحدی تنازعہ کو بنیاد بنا کر ان تنظیموں نے پاکستانی اداکاروں فہد خان اور ماہرہ خان کے خلاف خوب ہڑبونگ مچایا اور مطالبہ کیا کہ بالی وڈ کے فلمساز ان اداکاروں کو اپنی فلموں کی کاسٹ سے الگ کر دیں اور مستقبل میں کسی پاکستانی اداکارہ یا اداکار کو اپنی فلم میں کاسٹ کرنے سے اجتناب کریں۔

ان انتہا پسند تنظیموں نے فہد خان کی فلم ’’یہ دل ہے مشکل ‘‘کی نمائش کو تو کسی نہ کسی طرح ہضم کر لیا لیکن ان سے شاہ رخ کے مقابل ہیروئین کا کردار ادا کرنے والی ماہرہ خان برداشت نہیں ہو رہی ، اسی بنا پر ماہرہ خان ’’رئیس‘‘ کی پبلسٹی کمپئین میں شرکت کرنے بالی وڈ بھی نہ جا سکی تھی جبکہ شاہ رخ نے انہیں کئی بار بلاوا بھی بھیجا تھا ، اب جبکہ یہ فلم 25جنوری کو نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے تو دوسری جانب ایم این ایس اور شیو سینا نے فلم کی ریلیز پر سینما گھروں کے باہر مظاہرے کرنے کا پروگرام بنا لیا ہے ، عین ممکن ہے ان مظاہروں کی شدت فلم کی ریلیز پر اثر انداز ہو جائے اور بات توڑ پھوڑ اور گھیراو جلاو تک پہنچ جائے اور فلم کی نمائش رک جائے ، ان اقدامات سے ہندو انتہا پسندوں کی دوغلی پالیسی بھی کھل کر منظر عام پر آ گئی ہے

انہوں نے ہندو پروڈیوسر کرن جوہر کی فلم ’’اے دل ہے مشکل‘‘ کی نمائش پر تو کوئی رخنہ اندازی نہ کہ لیکن اب جب بالی وڈ کے مسلمان پروڈیوسر فرحان اختر اورمسلمان ہیرو شاہ رخ کی فلم نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے تو ان کو ایک بار پھر گڑھے مردے اکھیڑنے یاد آ گئے اور ماہرہ خان کے خلاف نئے سرے سے احتجاج کر سلسلہ شروع کر دیا گیا ہے ۔یاد رہے کہ نہ صرف پاکستانی اداکار بلکہ گلوکار بھی انتہا پسند ہندووں کی نفرت کا نشا نہ بن چکے ہیں اور راحت فتح علیخان جیسے فنکار بھی بھارتی نفرت کی زد میں ہیں ۔