Cloud Front
Trump

ٹرمپ کی حلف برداری کے موقع پر امریکہ میں خواتین کے ملین مارچ کی تیاری

واشنگٹن: امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ جنوری 20 کو امریکہ کے 45ویں صدر کے طور پر حلف لیں گے۔ اس سے ایک روز بعد امریکہ کی تاریخ میں خواتین کے حقوق کے لیے سب سے بڑے احتجاجی مظاہرے کی تیاری ہو رہی ہے جس میں دو سو سے زیادہ ترقی پسند تنظیمیں حصہ لے رہی ہیں۔مظاہرے کا اہتمام سوشل میڈیا پر ایک تجویز سے شروع ہوا اور اب یہ مظاہرہ امریکی تاریخ میں عورتوں کے حقوق کے لیے سب سے بڑے مظاہرے میں تبدیل ہوتا نظر آ رہا ہے۔یہ مظاہرہ واشنگٹن کیعلاقے لنکن میموریل سے شروع ہو کر وائٹ ہاؤس کے باہر ختم ہوگا جہاں چوبیس گھنٹے پہلے ہی امریکہ کا نیا کمانڈر ان چیف براجمان ہو چکا ہوگا۔

اس مظاہرے سے صرف چوبیس گھنٹے پہلے ایک فیس بک پیچ ظاہر ہوا۔ مظاہرے کے منتظمین اب ہر ریاست میں اسی نوعیت کے مظاہرے کے لیے فیس بک پیچ تیار کر رہے ہیں اور ابھی تک سولہ ریاستوں میں احتجاج کے لیے فیس بک پیچ سامنے آچکے ہیں۔مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ لنکن میموریل سے وائٹ ہاؤس تک پرامن مارچ کے ذریعے وہ نئے امریکی صدر سے اپنی ناپسندیدگی کا اظہار کریں گے۔مظاہرے میں تمام خواتین، ٹرانسجینڈر، حقوق نسواں کے حامیوں کو مظاہرے میں شرکت کرنے کی دعوت دی گئی ہے۔مظاہرے کے منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ اس مظاہرے کے ذریعے ایسے وقت عورتوں کے حقوق کی بات کرنا چاہتے ہیں جب ملک میں جنسی حملوں کے مرتکب افراد کو ‘معاف’ کرنے اور انھیں اعلیٰ عہدوں کے لیے قابل قبول بنایا جا رہا ہے۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ ہر وہ شخص جو عورتوں کے حقوق کا حامی ہے اسے اس مظاہرے میں شرکت کی دعوتِ عام ہے۔مظاہرے کے منتظمین اپنے دوسرے شہروں سے آنے والے مظاہرین سے کہہ رہے ہیں کہ جلد از جلد ہوٹل میں بکنگ کروا لیں کیونکہ صدر کی حلف برادری تقریب کی وجہ سے واشنگٹن میں پہلے ہی ہوٹلوں میں بکنگ مشکل ہو چکی ہے۔سیاہ فام وکلا عورتوں کی تنظیم کی سربراہ کیلن وائٹنگہیم نے کہا ہے کہ امریکہ جیسے متنوع ملک میں کسی ایک مسئلے پر اتنا بڑا مظاہرہ پہلے کبھی نہیں ہوا ہے۔ انھوں نے کہا’ہمیں ایک طاقت کے طور پر اکٹھے ہونا ہے تاکہ کوئی ہمیں نظر انداز نہ کر سکے۔’اس مظاہرے میں دوسو سے زیادہ ترقی پسند تنظیمیں شریک ہو رہی ہیں۔