Cloud Front
Karan Johar and sharmian obaid

عالمی اقتصادی فورم اجلاس ، شرمین عبید چنائے اور کرن جوہر کی کی دلچسپ گفتگو

‘آپ کی فلموں نے مجھے احساس دلایا کہ محبت کیا ہوتی ہے، شرمین عبید چنائے

ڈٍیووس : آسکر ایوارڈ یافتہ پاکستانی فلم ساز شرمین عبید چنائے اور بولی وڈ ہدایت کار کرن جوہر نے عالمی اقتصادی فورم کے ڈیوس میں ہونے والے اجلاس میں ایک ساتھ کئی پہلووں پر گفتگو کی۔اجلاس کے دوران ہندوستان اور پاکستان کی ان دو مقبول شخصیات نے فلموں، مقبولیت، معاشرے اور فن کے حوالے سے کھل کر اپنی رائے کا اظہار کیا۔خیال رہے کہ ان دونوں فنکاروں کو اپنے اپنے ملکوں میں مقبولیت کے ساتھ کئی تنازعات کا سامنا بھی کرنا پڑ چکا ہے۔دونوں نے ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جاری کشیدگی اور کرن جوہر کو اپنی فلم ‘اے دل ہے مشکل’ میں پاکستانی فنکار فواد خان کے ساتھ کام کرنے پر پیش آنے والی مشکلات کے حوالے سے بھی بات کی۔شرمین عبید چنائے نے کرن جوہر سے کہا، ‘آپ کی فلموں نے مجھے احساس دلایا کہ محبت کیا ہوتی ہے،

مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایسی کہانیاں بناتے ہیں جو ہمیں سوچنے پر مجبور کریں، جو ہمیں خواب دیکھنے کی اجازت دیں، پھر چاہے یہ فلمیں پیار کے حوالے سے ہوں، یا ان کا تعلق مذہب سے ہو، پاکستان میں اْس دور میں کوئی فلم انڈسٹری نہیں تھی اور ہم سب آپ کی فلمیں ہی دیکھا کرتے تھے’۔فلم سازی کے حوالے سے کرن جوہر کا کہنا تھا، ‘مجھے لگتا ہے کہ فلم بناتے وقت آپ اس کے خدا ہیں، آپ ایک دنیا بناتے ہیں، اس کو تباہ بھی کرسکتے ہیں، آپ اس کی کہانی کے ساتھ جو چاہے کرسکتے ہیں اور لوگوں کو بالکل ایسے پیش کرتے ہیں جیسا آپ چاہتے ہیں’۔جبکہ شرمین عبید نے کہا کہ ان کے لیے فلم سازی ایک حاملہ خاتون کی طرح ہے، ‘ہم یہ کہانی اپنے اندر پالتے ہیں، کوئی اور اس کے بارے میں نہیں جانتا، آپ اسے خود سے قریب رکھتے ہیں، اس کو بہتر کرتے ہیں اور جب آپ اسے دنیا کو دکھاتے ہیں تو امید کرتے ہیں کہ یہ سب کو پسند آئے’۔

خود پر ہونے والی تنقید کے حوالے سے شرمین عبید نے بتایا، ‘کیریئر کے آغاز میں جب مجھے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا تھا، میں کافی غم زدہ ہوجاتی تھی اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میں سوچتی تھی کہ غلط کو چھپانے کے بجائے غلط کو دکھانے اور ختم کرنے کی کوشش میں مجھ پر تنقید کی جارہی ہے، تاہم گزرتے سالوں کے ساتھ مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ لوگ تنقید ضرور کریں گے، کیوں کہ وہ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس آواز ہے، کون چاہے گا کہ تیزاب گردی ہو یا غیرت کے نام پر خواتین کا قتل کیا جائے، اس لیے تنقید غلط کے خلاف ہونی چاہیے اور اب مجھے اس سے فرق نہیں پڑتا کیوں کہ میں جان چکی ہوں کہ میرے کام میں اثر ہے’۔دوسری جانب کرن جوہر کا کہنا تھا کہ ‘جب آپ تنقید کے حوالے سے بات کررہی ہیں تو مجھے ایسا محسوس ہورہا ہے جیسے میں بھی کہیں نہ کہیں اس سے جڑا ہوا ہوں، کیوں کہ میری صبح کا آغاز لوگوں کی تنقید سے ہی ہوتا ہے اور اب جس دن میرا مذاق نہیں اڑایا جاتا تو مجھے ایسا لگتا ہے جیسے دن بھر میں کچھ خالی رہ گیا ہے’۔بولی وڈ فلموں میں پاکستانی فنکاروں پر پابندی کے حوالے سے شرمین عبید نے کہا کہ ‘ہم فنکار جو بھی کرتے ہیں دل سے کرتے ہیں،

مجھے امید ہے کہ پھر کسی دن میں دوبارہ فواد خان کو کرن جوہر کی فلم میں کام کرتا دیکھ سکوں’۔اس پر کرن جوہر نے جواب دیا کہ ‘میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کر رہا ہوں، آپ جانتی ہیں کہ میرے ساتھ جو کچھ بھی ہوا وہ اچھا وقت نہیں تھا، میں ٹیلنٹ کی کافی قدر کرتا ہوں اور فواد خان اسی لیے میری دو فلموں میں کام کرچکے ہیں، مگر میں نہیں جانتا کہ ہم آگے کہاں جارہے ہیں، مجھے امید ہے کہ فواد خان کو بہترین پلیٹ فارم ملے، لیکن میں پھر سے وہ سب برداشت نہیں کرسکتا جو میں نے کیا ہے، نہ ہی وہ موقع، نہ حالات اور نہ ہی معافی، ان میں سے کسی چیز نے مجھے مطمئن نہیں کیا، میں نے خود کو کمزور محسوس کیا، ایک فلم ساز ہونے کی حیثیت سے میں دوبارہ ایسا محسوس نہیں کرنا چاہتا، میں آزادی سے کام کرنا چاہتا ہوں’۔