Cloud Front
Parachanar

پارا چنار ، پرانی منڈی عید گاہ مارکیٹ میں بم دھماکہ ،20 افراد جاں بحق ،40زخمی

ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ، زخمیوں کو فوری طور پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پارا چنار منتقل کردیا گیا،سکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کردیا
دھماکہ محمد حسین نامی شخص کی دکان میں ہوا،ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی ہے ،350ڈاکٹرز حکومت سے مانگے تھے ابھی تک ایک بھی نہیں دیا گیا،ایم این اے ساجد طوری

پاراچنار: پارا چنار کے علاقے پرانی منڈی عید گاہ مارکیٹ میں دھماکے سے20افراد جاں بحق اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ، متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے ، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے ، زخمیوں کو فوری طور پر ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال پارا چنار منتقل کردیا گیا۔تفصیلات کے مطابق پارا چنار کے علاقے پرانی منڈی عید گاہ مارکیٹ میں بم دھماکے میں20افرادجاں بحق اور چالیس سے زائد زخمی ہو گئے ۔دھماکے کے فوری بعد سکیورٹی فورسز کے جوان جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہوئے زخمیوں کو ایجنسی ہیڈکوارٹر سول ہسپتال پارا چنار منتقل کیا جہاں پر متعدد زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔ذرائع کے مطابق ایمبولینسز کم پڑنے کی وجہ سے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر نے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا ہسپتال ذرائع کے مطابق ہلاکتوں میں اضافے کاخدشہ ہے جبکہ بلڈ بنک کی جانب سے زخمیوں کو خون کے عطیات دیئے جارہے ہیں اور لوگوں سے مزید عطیات کی اپیل کی گئی ہے ۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دھماکے خیز مواد پہلے سے نصب کیا گیا تھا جسے ڈیوائس کے ذریعے اڑایا گیا ۔واقعہ کے بعد سکیورٹی فورسز نے ارد گرد کے علاقوں کو گھیرے میں لے لیا اور سماج دشمن عناصر کی تلاش شروع کردی ہے ۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ صبح سویرے منڈی میں بہت زیادہ رش ہوتا ہے اور لوگوں خرید و فروخت کیلئے موجود ہوتے ہیں۔ایم این اے پارا چنار ساجد طوری نے کہا کہ یہ دھماکہ محمد حسین نامی شخص کی دکان میں ہوا، بولی لگتی ہے اب تک دس لوگ شہید ہو چکے ہیں اور تین سے زائد زخمی ہیں ، پارا چنار پہلے ہی دہشت گردوں کے ٹارگٹ پر ہے ، سکیورٹی تو تھی مگرچیک پوسٹوں پر سکیورٹی سخت کی جائے تاکہ دہشت گرد شہر میں پہنچے سے پہلے پکڑے جائیں ۔

ایف سی کے لوگ کھڑے ہیں اور سختی سے چیکنگ بھی کررہے ہیں پتہ نہیں یہ لوگ کیسے یہاں پہنچ جاتے ہیں اور دھماکے ہو جاتے ہیں ۔یہ علاقہ 2007ء سے اب تک دہشت گردوں کی ہٹ لسٹ پر ہے ۔انہوں نے کہا کہ یہ حقیقت ہے کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کی کمی ہے جس کے باعث مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کر نے کے لئے حکومت کیساتھ رابطے میں ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہماری یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم گورنرز اور حکومت کو بتائیں کہ ہسپتالوں میں ڈاکٹرز اور ادویات کی کمی ہے اور ہم اس کے خلاف آواز پہلے بھی اٹھاتے ہیں اور آئندہ بھی اٹھائیں گے۔ہم نے حکومت سے 350ڈاکٹرز دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن ابھی تک ہمیں ایک بھی ڈاکٹر نہیں ملا ۔ڈاکٹرز کی کمی کا تب احساس ہوتا ہے جب کوئی دھماکہ ہو جائے یا کوئی بڑا سانحہ ہو جائے۔واضح رہے کہ اس سے قبل پرانی منڈی تین مرتبہ دہشت گردی کا شکار ہو چکی ہے اور یہاں پر تین بم دھماکوں میں 150 افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔