Cloud Front
Amna Mufti

کالم: فلمیں ولمیں!. . . .آمنہ مفتی

کہتے ہیں جنگ بہت بڑی صنعت ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی میں اور تو جو ہوا سو ہوا، پاکستانی پروڈیوسرز کی دیرینہ آرزو بر آئی کہ ہندوستانی فلموں کی نمائش ختم کر دی جائے۔ ڈسٹری بیوٹرز اور سینما مالکین کی جانب سے جو دباؤ تھا اس کا خاتمہ شیو سینا نے یوں کروایا کہ پاکستانی فنکاروں کی اکا دکا فلموں پہ اس قدر اودھم پیٹا کہ بادل نخواستہ پیمرا کو یہ فیصلہ لینا پڑا۔
اب فیصلہ تو کر لیا گیا لیکن سینما میں دکھایا کیا جائے؟
پاکستان کی فلم انڈسٹری عملاً ختم ہو چکی تھی اور غالباً سال 2012 میں ایک بھی فلم نہ بنی۔ ’بول‘ کے بعد ایک نئی طرز کی فلم انڈسٹری نے جنم لیا۔ جو اپنے مو ضوعات، ہدایتکاری اور اداکاروں کے لحاظ سے، پچھلی، ’اصلی تے وڈی‘ فلم انڈسٹری سے بالکل مختلف ہے۔
پرانی ’شرافت‘ کے اب چند ہی نمونے پائے جاتے ہیں۔ ’شان‘، ’میرا‘، ’صائمہ‘،’سید نور‘، ’شہزاد رفیق‘ وغیرہ، جن میں سے ’شان‘ وہ واحد فنکار ہے جس نے بڑی سکرین اور چھوٹی سکرین کے فرق کو بر قرار رکھتے ہوئے ابھی تک ڈرامہ انڈسٹری میں قدم نہیں رکھا۔
نئی انڈسٹری کی اکثریت، ڈرامے سے آئی ہے۔ وہی پروڈیوسر، وہی اداکار، وہی کہانی کار وغیرہ۔ حالانکہ فلم اور ڈرامے کا ناظر بالکل فرق ہوتا ہے۔ چونکہ پاکستان میں ابھی ’سرکٹ‘ نامی چڑیا نے دوبارہ جنم نہیں لیا، اس لیے فلم کا اصل ناظر بھی پردے سے غائب ہے۔
جہاں سینما ہیں وہاں بھی سال میں دو یا چار فلمیں کم سے کم انڈسٹری نہیں کہلا سکتیں۔ مارکیٹ پیدا کرنے کے بعد اس کی مانگ پوری کرنا بھی ضروری ہوتا ہے۔
نو تعمیر شدہ ان سینماؤں کا ٹکٹ، پانچ سو سے سات سو تک ہوتا ہے( تھری ڈی چشمے کے پیسے ڈال کر)۔ ظاہر ہے یہ فلم بین وہ ’عوام‘ نہیں جو فلموں کے شوق میں گھر سے بھاگ جاتے تھے اور جن کے لیے ایک شاعر نے کہا تھا۔
’بہت شور کرتے ہیں چار آنے والے
خدایا لے جائیں انھیں تھانے والے‘
یہ ’چار آنے والے‘ ہی اصل فلم بین اور ایک فلم کو ’صنعت‘ کا درجہ دلانے والے ہوتے ہیں۔ ان کی زندگی کی واحد تفریح سینما ہی ہوتا ہے، اور یہ ہی وہ لوگ ہوتے ہیں جنھوں نے محمد علی کو محمد علی، اور وحید مراد کو وحید مراد بنا یا تھا۔
موجودہ فلمی صنعت اس وقت شدید بحران کا شکار ہے، گو سینما مالکین نے ہندوستانی فلمیں دکھانے کا اعلان کر دیا ہے، لیکن پاکستانی فلم کے لیے میدان اب بھی صاف ہے۔ اس وقت ہر وہ اداکار، صحافی، پروڈیوسر، ڈائریکٹر، جس کی جیب میں ایک کروڑ روپیہ ہے، فلم بنانے کو بے چین ہے۔
روزانہ پانچ سے سات احباب کے فون آتے ہیں جن کے خیال میں وہ ایک ایسی فلم بنانا چاہتے ہیں جو ’ تھوڑی سی کمرشل ہو‘۔
شروع میں اس بات کا مطلب نہیں سمجھ آتا تھا۔ فلم تو ہوتی ہی کمرشل ہے، یہ تھوڑی کا کیا مطلب؟
آہستہ آہستہ انکشاف ہوا، ایک بے روح، گھٹیا مکالموں اور لچر مزاح سے بھر پور، بے تکی کہانی، جس کا نہ کوئی سر ہو نہ پیر، اور جو پروڈیوسر کی نے کسی اور فلم سے اڑائی ہو، اور اڑاتے ہوئے ، لوٹی ہوئی پتنگ کی طرح بے جگہ سے کٹ پھٹ چکی ہو، کمرشل فلم ہوتی ہے۔

ہماری فلمی صنعت چونکہ ابھی ’میوں میوں‘ چل رہی ہے اس لیے اسے قدم قدم پہ سہارے کے ضرورت ہے، لیکن صرف اس حد تک، جس حد تک ضروری ہو۔
یہاں تو یہ حال ہے کہ فلم آئی نہیں اور احباب نے سماجی رابطے کی سائٹس پہ چندے کی درخواستیں لگائیں نہیں۔ از قسم، ’فلاں فلم دیکھیں ، بلکہ ایک دوست کو بھی ساتھ لے جائیں، پاکستانی سینما کو سپورٹ کریں‘۔
ارے بھائی! آپ فلم بنا رہے ہیں یا تحریکِ خلافت چلا رہے ہیں، جو کہہ رہے ہیں ’بیٹا جان، فلموں پہ دے دو۔‘
مہربان پروڈیوسرز کی اس ذہنی اپچ پہ تا دیر سر دھننے ( اپنا) کے بعد میں نے فیصلہ کیا کہ ایک طویل مضمون لکھ کے حوالۂ پریس کیا جائے۔
مگر چونکہ میں بھی ’کمرشل ادیب‘ ہوں چنانچہ باز رہی۔ اچھی فلم کے لیے مضبوط کہانی چاہیے۔
مثل مشہور ہے، جس کا کام اسی کو ساجھے، اور کرے تو ٹھینگا باجے۔ یعنی جب فلم پروڈیوسر کی بیگم سے لے کر، اداکار کے ذاتی ڈرائیور تک ہر شخص کو کہانی کار کی کہانی اور مکالموں کو بدلنے کا اختیار حاصل ہو گا تو پھر ایسا ہی ہو گا کہ آپ لاکھ چاہ کر بھی ہندوستانی فلموں کا بائیکاٹ نہیں کر پائیں گے۔
جنگ کریں مگر بے چارے بندوقچی کو بندوقچی ہی رہنے دیں، اس سے اپنے میلے موزے اور رومال نہ دھلوائیں، شکریہ!