Cloud Front

امریکی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر !

امریکی سی آئی اے کی خفیہ دستاویزات منظر عام پر !

حال ہی میں امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے ڈی کلاسیفائی کی گئی دستاویزات میں پاکستان کے سابق فوجی حکمران جنرل ضیا الحق کا ایک خط بھی شامل ہے جس میں انھوں نے امریکی صدر رونلڈ ریگن کو اس بات کی یقین دھانی کرائی تھی کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
5 جولائی 1982 کو لکھے گئے اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ صدر ضیا الحق نے یہ خط امریکی صدر رونلڈ ریگن کی جانب سے لکھے گئے اس خط کے جواب میں لکھا تھا جو امریکی سفیر ورنن والٹر نے جنرل ضیا تک پہنچایا تھا۔
صدر رونلڈ ریگن نے اپنے خط میں پاکستان کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔
جنرل ضیا صدر ریگن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ‘مجھے اس بات سے انتہائی تکلیف ہوئی کہ جب امریکی سفیر ورنن والٹر نے مجھ سے کہا کہ ایسی مصدقہ معلومات ہیں کہ پاکستان نے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے لیے اقدمات کیے ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو سکتے ہیں۔’
‘جنابِ صدر ایسی تمام معلومات سراسر غلط ہیں۔ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ نہ ہمارے پاس جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ڈیزائن یا طریقہ ہے اور نہ ہی ہم نے یہ معلومات کسی کو فراہم کی ہیں۔’
جنرل ضیا نے اس خط میں اپنے اس ‘عزم’ کا اظہار بھی کیا کہ پاکستان جوہری میدان میں کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائے گا جس سے امریکہ کو شرمندگی اٹھانی پڑے۔

اس خط میں صدر ضیا کا کہنا تھا کہ اس سے پہلے صدر جمی کارٹر بھی اس حوالے سے خدشات کا اظہار کر چکے ہیں اور انھوں نے صدر کارٹر کو بھی یقین دھانی کرائی تھی کہ پاکستان جوہری ہتھیار بنانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔
صدر ضیا خط میں لکھتے ہیں ‘میں نے انھیں 9 اگست 1979 کو لکھا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے اور پاکستان کا جوہری ہتھیار بنانے یا حاصل کرنے کا قطعی طور پر کوئی ارادہ نہیں ہے۔’
صدر ضیا اپنے خط میں مزید لکھتے ہیں کہ وہ پہلے بھی امریکی حکام کو بتا چکے ہیں کہ پاکستان کا جوہری پروگرام محدود صلاحیت رکھتا ہے اور اس کے حوالے سے جو پراپیگینڈہ کیا جارہا ہے اس کا مقصد علاقائی حالات سے توجہ ہٹانا ہے۔
خیال رہے کہ امریکہ کی سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی (سی آئی اے) کی جانب سے تقریباً ایک کروڑ 30 لاکھ صفحات پر مشتمل ان خفیہ دستاویزات کو پہلی بار انٹرنیٹ پر جاری کیا گیا ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو ڈاٹ کام