Cloud Front
Aitzaz Ahsan

پانامہ میں پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کا نام ہوتا تو نیب گرفتار کرلیتا، اعتزاز احسن

نوازشریف نیب کے سامنے پیش ہوتے تو کانپ اٹھتے،قطری خط کے مطابق شریف خاندان نے ان کے ساتھ26سال کاروبار کیا اسے ثابت کرنے کیلئے خط کافی نہیں منی ٹریل پیش کرنا ہوگا،نجی ٹی وی کو انٹرویو

اسلام آباد: سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ پانامہ میں پیپلزپارٹی کے وزیراعظم کا نام ہوتا تو نیب گرفتار کر لیا جاتا،نوازشریف نیب کے سامنے پیش ہوتے تو کانپ اٹھتے،قطری خط کے مطابق شریف خاندان نے ان کے ساتھ26سال کاروبار کیا اسے ثابت کرنے کیلئے خط کافی نہیں منی ٹریل پیش کرنا ہوگا۔نجی ٹی وی کو دئیے گئے انٹرویو میں اعتزازاحسن نے کہا کہ پانامہ کیس میں ایک ایک لفظ کا حساب ہونا چاہئے،شریف خان پر اطمینان تھا لیکن بدقسمتی سے رپورٹ لیک ہوگئی،شریف خاندان کو اصل کاغذات عدالت میں پیش کرنے چاہئیں۔انہوں نے ہکا کہ قطری خاندان کہتا ہے کہ لندن میں فلیٹ خرید کر دئیے گئے،جرمن اخبار کچھ اور کہنا ہے اگر جرمن اخبار جھوٹ بول رہا ہے تو اسے چیلنج کریں،برطانوی حکومت عمران خان کو نہیں بتائے گی کہ جائیداد کس کی ہے جائیداد کے ثبوت شریف خاندان نے دینے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر پیپلزپارٹی کا وزیراعظم ہوتا تو اب تک نیب اس کو گرفتار کرلیتا،

اگر نوازشریف کے سامنے پیش ہوتے تو کانپ اٹھتے۔سپریم کورٹ کہہ رہی ہے کہ مواد بہت آگیا لیکن ثبوت نہیں ہیں،عدالت2006ء تک شریف خاندان کے تمام بینکنگ اور ٹیکس ریکارڈ منگوائے۔سپریم کورٹ کو پانامہ کیس میں مکمل انصاف کرنا چاہئے۔انہوں نے کہا کہ کاروبار کو ثابت کرنے کیلئے صرف خط کافی نہیں یہ خط2006ء کا نہیں2016ء کا ہے عدالت قطری خط کو نہیں مانے گی اس کیلئے قطری شہزادے کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ قطری خط شریف خاندان کے خلاف استعمال ہوسکتا ہے،کاش وزیراعظم منی ٹریل پیش کرکے سرخرو ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ شریف خاندان نے پہلے جدہ فیکٹری کا ذکر کیا یہ سعودی شہزادوں سے خط لینا چاہتے تھے لیکن یمن کے معاملے پر معاملات بگڑ گئے،قطری خط کے تحت شریف خاندان نے26سال ان کے ساتھ کاروبار کیا،26سالہ رےئل اسٹیٹ کے بزنس سے کون سا پلازہ تعمیر کیا۔انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے نوازشریف کو1993ء میں2مرتبہ بچایا