Cloud Front

ٹرمپ حکم نامے جاری کرتے رہیں، امریکہ میں تشدد کی واپسی نہیں ہو گی: جان مکین

’تشدد کرنے پر یقین رکھتا ہوں کیونکہ آگ کا مقابلہ آگ سے ہی کیا جا سکتا ہے،ٹرمپ
میرا کام امریکہ کو محفوظ بنانا ہے، دولت اسلامیہ جیسے کام کررہی ہے ایسا پہلے کبھی نہیں سنا ، خفیہ اداروں نے بھی کہہ دیا ہے تشدد کا فائدہ ہوتا ہے ، امریکی صدر
تشدد کا استعمال کرنے ایک بہت بڑی غلطی ہو گی، سی آئی اے سابق سربراہ لیون پینیٹا

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ تشدد کرنے پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ‘آگ کا مقابلہ آگ سے ہی کیا جا سکتا ہے‘۔ جبکہ امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ جان مکین نے کہا ہے کہ ٹرمپ حکم نامے جاری کرتے رہیں امریکہ میں تشدد کی واپسی نہیں ہو گی جبکہ سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے کہا کہ تشدد کا استعمال کرنے ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔ اپنے ایک انٹرویو میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں انتہا پسند گروپ لوگوں کے سر قلم کر رہے ہیں لیکن ہم ان کے مقابلے میں برابر نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ان کا کام امریکہ کو محفوظ بنانا ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ وہ اپنے سیکرٹری دفاع جیمز میٹس اور ڈائرکٹر سی آئی اے مائیک پوم پیؤ سے بات کریں گے کہ کس طرح وہ قانونی طریقے سے انتہا پسندی کے خلاف جنگ لڑ سکتے ہیں۔’وہ انتہا پسند گروپ لوگوں کو گولیاں مار رہے ہیں۔ ہمارے لوگوں کے اور دوسروں کے سر قلم کر رہے ہیں کیونکہ وہ مشرق وسطیٰ میں عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ ایسے کام کر رہی ہے جو کہ ہم نے آج تک نہیں سنے، تو کیا میں واٹر بورڈنگ پر یقین نہیں رکھ سکتا؟’صدر ٹرمپ نے مزید کہا: ‘ میں نے اپنے خفیہ ادارے کے لوگوں سے بات کی ہے اور ان سے معلوم کیا ہے کہ کیا تشدد سے کوئی فائدہ ہوتا ہے؟ اور انھوں نے کہا کہ بالکل ہوتا ہے۔

میں اپنے لوگوں سے بات کروں گا اور اگر وہ سمجھتے ہیں کے تشدد کرنے سے کوئی فائدہ ہو سکتا ہے تو میں اس سمت میں بالکل جاؤں گا۔ میں ہر وہ چیز کروں گا جو قانون کا لحاظ کرتی ہو لیکن میں بالکل یقین رکھتا ہوں کے تشدد کرنا کار آمد ہے۔’دوسری جانب سی آئی اے کے سابق سربراہ لیون پینیٹا نے کہا کہ تشدد کا استعمال کرنے ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔ انھوں نے کہا کہ: ‘حقیقت یہ ہے کہ ہمیں اب معلومات حاصل کرنے کے لیے تشدد کرنے کے ضرورت نہیں ہے اور ایسا دوبارہ شروع کرنے سے دنیا میں ہمارے بارے تاثر خراب ہو جائے گا۔’ جبکہ ٹرمپ کے بیان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے امریکی سینیٹ کی آرمڈ سروسز کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان مکین نے کہا ہے کہ صدر ٹرمپ جتنے مرضی حکم ناموں پر دستخط کرتے رہیں، قانون اپنی جگہ موجود ہے اور امریکہ میں تشدد کی واپسی نہیں ہو گی۔ماضی میں سابق صدر اوباما کے خلاف صدارتی انتخاب لڑنے والے ریپبلکن سینیٹر مکین کا یہ بیان ان اطلاعات کے ردعمل میں آیا ہے جن کے مطابق صدر ٹرمپ تفتتیشی پالیسیوں کے جائزے کے لیے ایک صدارتی حکم جاری کرنے والے ہیں۔

آگ کا مقابلہ آگ سے کرنے کے جواب پر مکین نے کہا کہ جون 2015 میں امریکی سینیٹ نے نیشنل ڈیفینس آتھرائزیشن ایکٹ میں ایک ترمیم کی تھی جس میں یقینی بنایا گیا تھا کہ صرف وہی تفتیش کے لیے وہی تکنیک استعمال ہو سکے جس کا ذکر آرمی فیلڈ مینوئل میں ہے اور اس کے نتیجے میں تشدد کی ممانعت کی گئی تھی۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکی فوج کے فیلڈ مینوئل میں تفتیش کے لیے واٹربورڈنگ اور اس جیسے دیگر پرتشدد حربے استعمال کرنے کی اجازت نہیں اور اس مینوئل میں کسی بھی تبدیلی کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترمیم لاگو ہونے سے ایک ماہ قبل عوامی جائزے کے لیے پیش کی جائے۔