Cloud Front

برطانوی اور کینیڈین وزرائے اعظم کا ٹرمپ کے فیصلے سے اختلاف

لندن: برطانوی وزیرِ اعظم ٹیریزا مے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پناہ گزینوں پر عائد پابندی سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اس کی وجہ سے برطانوی شہری متاثر ہوئے تو وہ امریکہ سے اپیل کریں گی۔ یہ بات برطانوی وزیرِ اعظم کے دفتر ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے جاری بیان میں کہی گئی ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم پر اس وجہ تنقید کی جاتی رہی ہے کہ وہ انھوں نے امریکی صدر کے اس اقدام کی مذمت کرنے کے بجائے یہ کہا کہ امریکہ اپنی مرضی کے مطابق پالیسیاں بنانے پر مختار ہے۔ امریکی صدر کے اس حکم نامے کے باعث تمام پناہ گزینوں کا اور سات ممالک کے افراد کا امریکہ سے داخلہ تین ماہ کے لیے بند قرار دیا تھا۔ سکاٹ لینڈ کے فرسٹ منسٹر نیکولا سٹرجین کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم کو اس حکمنامے کے خلاف پہلے بولنا چاہیے تھا۔ اس حکم نامے کے تحت، جس پر انھوں نے جمعے کو دستخط کیے تھے، امریکہ کا پناہ گزینوں کا پروگرام معطل کر دیا گیا تھا اور عراق، ایران، شام، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90 دن کی پابندی لگا دی تھی۔ تاہم اب نیویارک کی ایک عدالت نے صدر ٹرمپ کے اس حکم نامے پر عبوری طور پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم امریکہ کے دورے سے لوٹی ہیں جس کے چند گھنے بعد یہ وضاحتی بیان سامنے آیا ہے۔ ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ کے ترجمان کے مطابق ’امریکہ میں امیگریشن پالیسی امریکی حکومت کا معاملہ ہے جیسے کہ برطانیہ کی امیگریشن ہماری حکومت کا۔ لیکن ہم ایسی سوچ سے متفق نہیں ہیں اور ہم ایسا نہیں کریں گے۔‘ادھر کینیڈا کے وزیرِاعظم جسٹن ٹروڈو نے امریکی کی جانب سے پناہ گزینوں پر پابندی کے فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر برملا اظہار کیا ہے۔ اپنی ٹویٹس میں انھوں نے اپنی حکومت کے اس فیصلے پر قائم رہنے کا عزم کیا جس کے تحت ان کے بقول ’قتل، دہشت اور جنگ سے بھاگنے والوں‘ کو پناہ دی گئی ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی ٹویٹس کو ڈیڑھ لاکھ مرتبہ شیئر کیا گیا۔ کینیڈا میں اس وقت ’ویلکم ٹو کینیڈا‘ ٹرینڈ کر رہا ہے۔ جسٹس ٹروڈو اس وقت بین الاقوامی توجہ حاصل کر لی تھی جب انھوں نے 40 ہزار شامی پناہ گزینوں کو 13 ماہ کے عرصے کے دوران ملک میں پناہ دی۔