Cloud Front
Panama Papers

جسٹس عظمت شیخ علیل، پاناما کیس کی سماعت پیر تک ملتوی

سپریم کورٹ میں پاناماپیپرزسےمتعلق کیس کی سماعت پیرتک ملتوی
جسٹس عظمت شیخ کی طبیعت کی ناسازی کے باعث سماعت ملتوی کی گئی
جسٹس عظمت کو ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے اور انہیں چند دن ہسپتال میں ہی رہنا ہوگا
عمران خان کا ٹوئیٹر پیغام میں جسٹس عظمت کی صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں جاری پاناما کیس کی سماعت 5 رکنی لارجر بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید کی علالت کے باعث پیر (5 جنوری) تک ملتوی کردی گئی۔ تفصیلا ت کے مطابق بدھ کے روز روزانہ کی بنیاد پر جاری پاناما کیس کی سماعت کے لیے معزز جج صاحبان جب سپریم کورٹ پہنچے تو جسٹس آصف کھوسہ نے بتایا کہ لارجر بنچ کے رکن جسٹس شیخ عظمت سعید کی علالت کے باعث کیس کی سماعت کو پیر تک کے لیے ملتوی کیا جارہاہے۔جسٹس آصف کھوسہ کے مطابق طبیعت بہتر ہونے پر اگر ڈاکٹرز جسٹس عظمت کو مشورہ دیتے ہیں تو وہ پیر سے کیس کی کارروائی میں حصہ لیں گے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی اپنی ٹوئیٹر پیغام میں جسٹس عظمت کی صحتیابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔یاد رہے کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی)،جماعت اسلامی پاکستان (جے آئی پی)، عوامی مسلم لیگ (اے ایم ایل)، جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) اور طارق اسد ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کی گئی تھیں۔

ان درخواستوں پر گذشتہ ماہ (4 جنوری) سے سپریم کورٹ کے سینئر ترین جج جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں قائم نیا 5 رکنی لارجر بینچ سماعت کررہا ہے، جس میں جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس اعجاز افضل، جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس گلزار احمد شامل ہیں۔گذشتہ روز (31جنوری) کو کیس کی سماعت کے بعد جسٹس شیخ عظمت سعید کو سینے میں تکلیف کے باعث راولپنڈی کارڈیالوجی سینٹر (آر آئی سی) لے جایا گیا جہاں آرمڈ فورسز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کے سابق کمانڈنٹ (ر) جنرل اظہر کیانی کی رہنمائی میں ڈاکٹرز نے ان کی اینجیوپلاسٹی کی۔جنرل کیانی نے بتایا کہ جسٹس شیخ عظمت سعید کو سینے میں اچانک اٹھنے والے درد کے بعد چیک اَپ کے لیے ہسپتال لایا گیا تھا، ‘انجیو پلاسٹی کا عمل مکمل ہونے کے بعد انہیں انتہائی نگہداشت کے شعبے میں منتقل کردیا گیا اور اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے’۔جنرل کیانی کے مطابق جسٹس عظمت کو ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے اور انہیں چند دن ہسپتال میں ہی رہنا ہوگا۔